News Views Events
Apna Watan

شنگھائی تعاون تنظیم سے برکس تک: گلوبل ساؤتھ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کو کس طرح آگے بڑھا رہا ہے،چینی میڈیا

0

بیجنگ :12 تا 13 ستمبر کو برکس ممالک کا اٹھارہواں سربراہی اجلاس بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ ترقیاتی امور کو مرکز میں رکھتے اور عملی تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے، برکس نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گلوبل ساؤتھ کے درمیان نئے اتفاقِ رائے کو مضبوط کیا اور عالمی حکمرانی کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں آگے بڑھانے کا پختہ عزم بھی ظاہر کیا ہے۔رواں سال برکس تعاون کے آغاز کی بیسویں سالگرہ ہے۔ گزشتہ 20 برسوں میں برکس ممالک کی مجموعی آبادی دنیا کی تقریباً نصف تک پہنچ چکی ہے، مجموعی معاشی حجم عالمی معیشت کا تقریباً 30 فیصد ہے اور عالمی معاشی ترقی میں ان کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اس سفر کو “خود انحصاری و خود مضبوطی، ہر حال میں یکجہتی، اور نتیجہ خیز ثمرات “کے الفاظ میں بیان کیا۔ یہ 20 برس ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کی جانب سے آزادانہ ترقی کی راہوں کی تلاش کے 20 برس ہیں، بین الاقوامی مالیاتی بحران، کووڈ۔19 کی وبا اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کے 20 برس ہیں، اور تاریخی نوعیت کی توسیع، ہمہ جہت تعاون کے ڈھانچے کی تشکیل اور “گریٹر برکس تعاون” کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کے 20 برس بھی ہیں۔2017 میں شیامن سمٹ میں برکس پلس” ماڈل متعارف کرانے سے لے کر، 2022 میں رکنیت کی توسیع کے عمل کے آغاز، اور پھر قازان اجلاس میں “پرامن برکس””اختراعی برکس” “سبز برکس””منصفانہ برکس” اور تہذیبی برکس” کی تعمیر کی تجویز تک، چین ہمیشہ برکس تعاون کا ایک اہم محرک رہا ہے۔ نئی دہلی سمٹ میں صدر شی جن پھنگ نے مزید تجویز پیش کی کہ برکس ممالک کو جدت پر مبنی ترقی کے فروغ، امن و استحکام کے تحفظ، تہذیبوں کے باہمی تبادلے اور عالمی حکمرانی میں اصلاح و بہتری کے لیے چار اہم پیش رو” کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ “چاروں پیش رو” ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ترقی، سلامتی، تہذیب اور حکمرانی سے متعلق چار گلوبل انیشی ایٹوز کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جس کے ساتھ ایک واضح راستہ بھی پیش کیا گیا ہے: مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش قدمی برقرار رکھی جائے، اوپن سورس، کھلے پن اور باہمی اشتراک کی حمایت کی جائے اور تمام فریقوں کو عالمی مصنوعی ذہانت تعاون کی تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی جائے۔ مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر عمل کیا جائے، سرد جنگ کی سوچ اور گروہی محاذ آرائی کی مخالفت کی جائے اور علاقائی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کیا جائے۔ پوری انسانیت کی مشترکہ اقدار کو فروغ دیتے ہوئے ثقافت، سیاحت، تعلیم اور نوجوانوں کے درمیان تبادلوں کو گہرا کیا جائے۔ بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت کے رجحان کو فروغ دیا جائے، اقوام متحدہ کے اختیار کا تحفظ کیا جائے، عالمی تجارتی تنظیم کو مرکز بنانے والے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کی جائے، تحفظ پسندی کی مخالفت کی جائے اور سائبر اسپیس، بیرونی خلا اور گہرے سمندر جیسے نئے شعبوں کی عالمی حکمرانی میں کردار ادا کرتے ہوئے گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید مضبوط کیا جائے۔ یہ تجاویز موجودہ دور کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں اور برکس تعاون کے لیے سمت متعین کرتی ہیں۔یکجہتی اور تعاون ، ہمیشہ برکس کے سفر کی بنیادی قوت رہے ہیں ۔ برکس رکن ممالک کے آزادانہ انتخاب کا احترام کرتا ہے، کسی ایک جانب جھکاؤ کا مطالبہ کرنے کے بجائے اختیارات فراہم کرتا ہے، یہ رویہ سرد جنگ کی گروہی محاذ آرائی کی سوچ سے بالکل مختلف ہے۔ ممالک کو ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ انہیں “کس صف میں کھڑا ہونا ہے” بلکہ یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کا وسیع ترین دائرہ کیسے تلاش کیا جائے اور ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع کیسے پیدا کیے جائیں۔منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے فروغ کے لیے گلوبل ساؤتھ پہلے ہی عملی اقدامات کر رہا ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنما بشکیک میں جمع ہوئے۔ بشکیک اجلاس میں صدر شی جن پھنگ نے مشترکہ خوشحالی کے فروغ، عالمی سطح پر وسیع سلامتی کے ماحول کی تشکیل اور عالمی حکمرانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اہم تجاویز پیش کیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام دراصل مشترکہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عمل میں آیا تھا، لیکن گزشتہ 25 برسوں میں یہ دنیا کی سب سے وسیع جغرافیائی حدود، سب سے بڑی آبادی اور بے پناہ ترقیاتی صلاحیت رکھنے والی نئی طرز کی علاقائی تعاون کی تنظیم بن چکی ہے۔ ایس سی او اور برکس کے علاوہ “جی 77 اور چین” اور غیر وابستہ ممالک کی تحریک جیسے پلیٹ فارمز ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز بنتے ہیں؛ افریقی یونین، عرب لیگ، لاطینی امریکی و کیریبین ریاستوں کی کمیونٹی اور آسیان جنوب۔جنوب تعاون کا نیٹ ورک مضبوط کرتے ہیں؛ فرینڈز آف گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو گروپ بھی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔۔۔آج دنیا کو امن، ترقی، سلامتی اور حکمرانی کے خسارے جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ دنیا جتنی زیادہ بے یقینی اور انتشار کا شکار ہے، اتنا ہی ضروری ہے کہ امن، ترقی، تعاون اور مشترکہ کامیابی کے پرچم کو بلند رکھا جائے۔ نئی دہلی سے بشکیک تک، علاقائی تنظیموں سے عالمی اداروں تک، گلوبل ساؤتھ نے تعاون اور مشترکہ کامیابی کے عمل میں باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات، مشاورت، تہذیبی تنوع کے احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی “شنگھائی اسپرٹ” کو فروغ دیا ہے۔ اسی کے ساتھ غیر وابستگی، عدم محاذ آرائی اور تیسرے فریق کے خلاف نہ ہونے پر مبنی بقائے باہمی کے اصول، اور برکس کی یکجہتی و تعاون کی قوت بھی عالمی برادری کے لیے اہم فکری و عملی اثاثے بن چکے ہیں۔ انہی اصولوں کی رہنمائی میں گلوبل ساؤتھ انتشار زدہ دنیا میں مسلسل مثبت کردار ادا کر رہا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.