News Views Events
Apna Watan

چین خدماتی تجارت کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ، چینی میڈیا

0

بیجنگ :چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز 2026 ، نو سے تیرہ ستمبر تک بیجنگ میں منعقد ہوا۔ مہمان ملک ناروے کے نمائندے، چین میں ناروے کے سفارت خانے کے کمرشل قونصلر اور ناروے انوویشن ایجنسی کے چین میں سربراہ ہاننگ نے کہا کہ چین کی خدماتی تجارت کے معیار اور سطح میں مسلسل بہتری کے ساتھ ملک میں خدمات کی طلب بھی مسلسل بڑھ رہیe ہے، جس سے ناروے سمیت مختلف ممالک کی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اس وقت ، عالمی اقتصادی و تجارتی ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور خدماتی تجارت اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک بنتی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق عالمی خدمات کے شعبے کی اضافی قدر عالمی معیشت کے مجموعی حجم کا 65 فیصد ہے، جبکہ عالمی تجارت میں اس کا حصہ ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔چین خدماتی تجارت کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی خدمات کی درآمد و برآمد کا مجموعی حجم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8.3 فیصد بڑھا، جبکہ علم پر مبنی خدمات کی برآمدات کا حصہ خدمات کی مجموعی برآمدات کا 53.5 فیصد رہا۔آئندہ پانچ برسوں میں چین خدمات کے شعبے کو مرکزی توجہ دیتے ہوئے مارکیٹ تک رسائی اور کھلے پن کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے گا۔ رواں سال کے سروسز ٹریڈ فیئر کے ذریعے دنیا نے چین میں کھلے پن اور تعاون کے مزید وسیع امکانات بھی دیکھے۔ متعدد غیر ملکی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل میں چین مزید شعبوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کھولے گا، جس سے چین میں ترقی کے نئے مواقع اور نئے شعبے میسر آئیں گے۔چینی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2030 تک چین میں خدمات کے شعبے کا مجموعی حجم 100 ٹریلین یوان کی سطح عبور کر جائے گا اور چینی خدمات” کے مزید برانڈز پروان چڑھیں گے۔ اس سے عالمی تجارت میں نئی توانائی پیدا ہوگی اور دنیا مزید ترقیاتی ثمرات سے مستفید ہو سکے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.