تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
اسلام آباد(نیووز ڈیسک)سائنس دانوں نے تقریباً تین ہزار سال قبل ہلاک ہونے والی ایک مصری خاتون کی پراسرار موت کے حوالے سے اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں،
جسے اس کے غیر معمولی چہرے کے تاثرات کے باعث ’چیختی ہوئی عورت‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ ممی 1935 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ملی تھی۔ دریافت کے وقت خاتون کا منہ کھلا ہوا اور چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے وہ خوف یا تکلیف میں چیخ رہی ہو، جس نے ماہرین کو طویل عرصے تک حیرت میں مبتلا کیے رکھا۔ابتدائی طور پر یہ تصور کیا جاتا رہا کہ ممی بنانے کے عمل میں کسی خامی کے باعث اس کا منہ کھلا رہ گیا اور چہرے پر چیخنے جیسی کیفیت برقرار رہی۔ تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون کی تدفین غیر معمولی طور پر شاہانہ طریقے سے کی گئی تھی۔تحقیق کے مطابق اسے قیمتی اور بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے سامان کے ساتھ دفن کیا گیا، جن میں لوبان اور جونیپر ریزنز بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ خاتون کے سر پر کھجور کے پتوں کے ریشوں سے تیار کردہ وگ موجود تھی، جسے مہنگی سرخی مائل مہندی سے رنگا گیا تھا اور کرسٹل جیسے پاؤڈر سے سجایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق تدفین میں استعمال ہونے والی قیمتی اشیا اس خیال کو کمزور کرتی ہیں کہ ممی کی موجودہ حالت صرف ناقص طریقۂ حنوط یا تدفین کا نتیجہ تھی۔ اس کے بجائے اس امکان کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے کہ چہرے کے غیر معمولی تاثرات کے پیچھے موت سے متعلق کوئی طبی وجہ موجود ہوسکتی ہے۔تحقیق میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ خاتون کی موت کے وقت جسم اچانک اکڑ گیا ہو، جس کے نتیجے میں چہرے پر چیخنے جیسی کیفیت مستقل طور پر محفوظ ہوگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرسکتی ہے کہ خاتون نے موت سے قبل شدید اذیت یا تکلیف کا سامنا کیا تھا۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.