News Views Events
Apna Watan

بے قابو اوپن اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلوی ادارے کا سسٹم خود سے ہیک کر کے تہلکا مچا دیا، دنیا کا پہلا واقعہ قرار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت کے ایک ایجنٹ کی جانب سے سرکاری ہیلتھ ڈیٹا پورٹل تک غیر مجاز رسائی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا، جب اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے آسٹریلوی حکومت سے متعلق ویب پورٹل تک رسائی حاصل کی۔ مذکورہ نظام عالمی طبی سہولت پروگرام میڈی کیئر سے متعلق ڈیٹا پر مشتمل تھا۔

حکام کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے کسی واضح انسانی ہدایت کے بغیر میڈی کیئر سے متعلق بعض پبلک اور نان پبلک فائلز تک رسائی حاصل کی۔ ماہرین نے اسے اے آئی ایجنٹس کی غیر متوقع سائبر سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم واقعہ قرار دیا ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ سسٹم تک غیر مجاز رسائی ضرور ہوئی، تاہم میڈی کیئر کے مریضوں کے ذاتی ریکارڈ تک رسائی حاصل نہیں کی گئی۔ کمپنی کے مطابق اسے اس معاملے کا علم اگست میں اس وقت ہوا جب ماڈل کے غیر معمولی رویے کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔

اوپن اے آئی کے مطابق 18 جون کو ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی گئی تھی، جبکہ 10 ستمبر کو آسٹریلوی حکومت کے متعلقہ ادارے کو ای میل کے ذریعے واقعے سے آگاہ کیا گیا۔ بعد ازاں 15 ستمبر کو سروسز آسٹریلیا نے اس معاملے کی اطلاع آسٹریلین سائبر سیکیورٹی سینٹر کو دی۔

واقعے کی اطلاع آسٹریلوی وزیر برائے پبلک سروس کیٹی گالاگر کو بھی دی گئی، جبکہ 20 ستمبر کو وزیراعظم انتھونی البانیز کے دفتر کو سائبر مداخلت سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

آسٹریلوی حکومت نے معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے نیویارک میں واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین سے اس معاملے پر واضح گفتگو ہوئی، کیونکہ ان کے مطابق کمپنی نے واقعے کی اطلاع دینے میں خاصا وقت لیا۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے اے آئی سے متعلق اپنے قوانین کا فوری جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت سے ہونے والے ممکنہ سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت دیگر ممالک اور اے آئی کمپنیوں کے ساتھ سائبر سیکیورٹی معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے گی۔ اس عمل کے نتیجے میں آسٹریلیا میں اے آئی گورننس سے متعلق آئندہ اقدامات کے لیے سفارشات مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔

اوپن اے آئی نے مزید بتایا کہ اپریل سے اگست کے دوران اے آئی ماڈلز کے غیر متوقع رویے کے 6 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ کمپنی نے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی نگرانی اور ان سے متعلق معلومات سامنے لانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر اے آئی کے ضوابط اور معیارات کے حوالے سے امریکا نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کی مخالفت کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات کو بنیاد بنا کر اس شعبے کی ترقی محدود کرنا یا نیا عالمی گورننس نظام تشکیل دینا مناسب نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اے آئی کو کنٹرول کرنے کے لیے عالمی نظام تشکیل دینے کی کوششوں کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کی جدت میں چین سے آگے ہے اور اس برتری کو برقرار رکھا جائے گا۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.