دبئی (رابطہ نیوز) دبئی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے لیے کرایہ ” چہرے کی شناخت” کے ذریعے ادا کیا جاسکے گا۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے مصنوعی ذہانت اور ورچوئل میٹاورس ٹیکنالوجی سے آراستہ متعدد منصوبے متعارف کرائے ہیں۔
اتھارٹی چہرے کی شناخت سے کرائے کی ادائیگی کے پروگرام کا تعارف جیٹکس 2023 میں کرایا ہے۔
نئے نظام میں نول کارڈ استعمال کرنے والوں کو صرف ایک بار چہرے کا اندراج کرانا ہوگا جس کے بعد میٹرو دبئی، ٹرام دبئی، پبلک بس، ٹیکسی اور سمندری ٹرانسپورٹ میں سے کسی سے بھی سفر کرتے وقت مسافر کو چہرے سے شناخت کیا جائے گا اور خودکار سسٹم سے مسافر کے اکاؤنٹ سے کرایہ ادا ہو جائے گا۔
دبئی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں ہر شخص کا ایک کارڈ ہو گا۔ سمارٹ گیٹ سے گزرتے وقت فیس ریڈنگ پر متعلقہ شحص کے اکاؤنٹ سے کرائے کی رقم وصول ہو جائے گی۔
حکام کے مطابق یہ سمارٹ گیٹس سسٹم 6 ماہ سے ایک سال کے دورن فعال ہوجائے گا تجربہ کامیاب ہونے پر اتھارٹی پرائیویٹ کمپنیوں کو سمارٹ گیٹ سسٹم پر عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون فراہم کرے گی۔
روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق پہلے مرحلے میں کرائے کی ادائیگی کے دیگر طریقے ختم نہیں ہوں گے بلکہ مرحلہ وار ان کی جگہ فیس ریڈنگ سسٹم لایا جائے گا۔‘
ابتدا میں صارفین کو اختیار ہو گا کہ وہ کارڈ کے ذریعے یا فیس ریڈنگ کے ذریعے ادائیگی کریں۔
فیس ریڈنگ سسٹم میں پہلے صارف کا اندراج ہو گا۔ اس کی شناخت کیمروں کے ذریعے فیس ریڈنگ سے ہوگی پھر تھری ڈی میں فیس ریڈنگ کا تجزیہ ہو گا۔ ڈیٹا میں یکسانیت پر متعلقہ شخص کے اکاؤنٹ سے کرائے کی رقم وصول کی جائے گی۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ