ٹی اے ایس ایس نیوز ایجنسی نے مقامی وقت کے مطابق 9 جنوری کو رپورٹ دی کہ یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے چیف ترجمان پیٹر سٹینو نے کہا کہ یورپی یونین مستقبل قریب میں بحیرہ احمر میں اپنی فوجی کارروائیوں کے آغاز پر بات چیت شروع کر دے گی۔اس کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کی حوثی مسلح افواج کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
دسمبر 2023 میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ “ریڈ سی ایسکارٹ الائنس” تشکیل دے گا۔ اس کے جواب میں یورپی یونین کے کئی ممالک نے امریکہ کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے نئے دور میں، یمن کی حوثی مسلح افواج نے بحیرہ احمر اور قریبی پانیوں میں “اسرائیل سے وابستہ” بحری جہازوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔ خطرات سے بچنے کے لیے بہت سی بڑی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر بحرہ احمر اور نہر سویز کے روٹ سے گریز کریں گی۔
Trending
- اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت گرانے کیلئے اتحاد کر لیا
- 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی
- نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
- چین، یوم شہداء پر عوامی ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادر پیش کرنے کی تقریب 30 ستمبر کو ہوگی
- چینی صدر کا پرامن چین انیشی ایٹو کو مزید بلند سطح تک آگے بڑھانے پر زور
- چین۔امریکہ تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے ، یو ایس۔چائنا بزنس کونسل کے صدر
- مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت
- چین کے سات محکموں کی جانب سے نئی بیٹری صنعت کی ترقی کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جاری
- چین دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کو تیار ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین مصنوعی ذہانت سے متعلق امریکہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا خواہاں