ٹی اے ایس ایس نیوز ایجنسی نے مقامی وقت کے مطابق 9 جنوری کو رپورٹ دی کہ یورپی یونین کے خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے چیف ترجمان پیٹر سٹینو نے کہا کہ یورپی یونین مستقبل قریب میں بحیرہ احمر میں اپنی فوجی کارروائیوں کے آغاز پر بات چیت شروع کر دے گی۔اس کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کی حوثی مسلح افواج کے خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
دسمبر 2023 میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ "ریڈ سی ایسکارٹ الائنس” تشکیل دے گا۔ اس کے جواب میں یورپی یونین کے کئی ممالک نے امریکہ کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کے نئے دور میں، یمن کی حوثی مسلح افواج نے بحیرہ احمر اور قریبی پانیوں میں "اسرائیل سے وابستہ” بحری جہازوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔ خطرات سے بچنے کے لیے بہت سی بڑی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر بحرہ احمر اور نہر سویز کے روٹ سے گریز کریں گی۔
Trending
- پی ایس ایل11؛ 20 میچز مکمل، پوائنٹس ٹیبل پر کونسی ٹیم کس پوزیشن پر ہے؟
- ایران امریکا ملاقات بہت اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ
- کوشل مینڈس پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل جانے کے سوال پر خاموش رہ گئے
- لاہور قلندرز کا پرویز حسین ایمون کے متبادل کے طور پر چارتھ اسالنکا کو شامل کرنے کا اعلان
- چوہدری شجاعت حسین کی سیاسی خدمات قابلِ قدر ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
- گلین میکسویل نے بھی حیدرآباد کنگز مین کے اسکواڈ کو جوائن کرلیا
- نامور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں
- بنگلا دیش کا نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز کیلیے اسکواڈ کا اعلان
- پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگز مین کا اسلام آباد کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- جاپان کے حالیہ بیانات اور اقدامات چین-جاپان تعلقات اور علاقائی صورتحال میں تناؤ کی بنیادی وجہ ہیں ، چینی میڈیا