چین اور امریکہ کے محکمہ دفاع کا 17 واں ورک اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا ۔اس کی مشترکہ صدارت چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے بین الاقوامی فوجی تعاون دفتر کے سربراہ اور امریکہ کی وزارت دفاع کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری نے کی۔
چین نے کہا کہ وہ برابری اور احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ صحت مند اور مستحکم فوجی تعلقات استوار کرنے اور دونوں سربراہان مملکت کے درمیان سان فرانسسکو سربراہی اجلاس میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر مشترکہ طور پر عمل درآمد کرنے کے لئے تیار ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر کبھی سمجھوتہ یا رعایت نہیں دے گا اور امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک چین کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنے متعلقہ وعدوں پر سنجیدگی سے عمل کرے، تائیوان کو اسلحے کی فراہمی بند کرے اور تائیوان کی علیحدگی کی مخالفت کرے۔ چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں اپنی فوجی تعیناتی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کو کم کرے اور بعض ممالک کی اشتعال انگیزیوں کی حمایت بند کرے۔چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بحری اور فضائی سلامتی کے مسائل کی بنیادی وجوہات کو مکمل طور پر سمجھتے ہوئے اپنے فرنٹ لائن فوجیوں کا سختی سے انتظام کرنا ہوگا۔ چینی فریق نے چین کے بنیادی مفادات سے متعلق معاملات اور بین الاقوامی ہاٹ ایشوز پر اپنے سنجیدہ موقف اور اہم خدشات کی بھی وضاحت کی۔
Trending
- اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت گرانے کیلئے اتحاد کر لیا
- 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی
- نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
- چین، یوم شہداء پر عوامی ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادر پیش کرنے کی تقریب 30 ستمبر کو ہوگی
- چینی صدر کا پرامن چین انیشی ایٹو کو مزید بلند سطح تک آگے بڑھانے پر زور
- چین۔امریکہ تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے ، یو ایس۔چائنا بزنس کونسل کے صدر
- مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت
- چین کے سات محکموں کی جانب سے نئی بیٹری صنعت کی ترقی کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جاری
- چین دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کو تیار ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین مصنوعی ذہانت سے متعلق امریکہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا خواہاں