بیجنگ(نیوزڈیسک)امریکہ کی “انڈو پیسیفک اسٹریٹجی” سے متعلق سوالات کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور سب سے زیادہ فوجی اخراجات کے حامل ملک کی حیثیت سے امریکی پایسی میں امن کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت کے بجائے جنگی حالات پیدا کرنے کی صلاحیت کی زیادہ نظر آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ امن و ترقی کی خواہش پر ایشیا و بحرالکاہل ممالک کا اتفاق رائے ہے اور اس مناسبت سے امریکہ کو خطے کے ممالک کی آواز کا احترام کرنا چاہیے، امن و استحکام کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں اور ایشیا و بحرالکاہل علاقے میں بلاک سیاست ، محاذ آرائی اور تنازعات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن