نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر کیے جانے والے امریکی اور برطانوی فضائی حملوں پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 کی پاسداری کریں اور یمن میں کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے متعدد ممالک کی مدد سے یمن میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 کی "مکمل پاسداری” کرنے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ بحیرہ احمر کے خطے میں بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے "ناقابل قبول” ہیں کیونکہ اس سے عالمی سپلائی چین کے تحفظ کو خطرہ لاحق ہوگا اور عالمی معاشی اور انسانی صورتحال پر منفی اثر ات مرتب ہوں گے۔
انتونیو گوتریس نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے بحری جہازوں کو حملے سے محفوظ رکھتے ہوئے قرارداد میں بیان کردہ بین الاقوامی قانون کی متعلقہ شقوں کے مطابق کام کریں اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ بحیرہ احمر اور خطے میں امن و استحکام کے لیےاقدامات کریں تاکہ کشیدگی میں مزید اضافے سے بچا جا سکے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو یمن کو امن کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں تنازع کے خاتمے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششیں رائیگاں نہیں جانی چاہئیں۔
Trending
- پی ایس ایل11؛ 20 میچز مکمل، پوائنٹس ٹیبل پر کونسی ٹیم کس پوزیشن پر ہے؟
- ایران امریکا ملاقات بہت اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ
- کوشل مینڈس پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل جانے کے سوال پر خاموش رہ گئے
- لاہور قلندرز کا پرویز حسین ایمون کے متبادل کے طور پر چارتھ اسالنکا کو شامل کرنے کا اعلان
- چوہدری شجاعت حسین کی سیاسی خدمات قابلِ قدر ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
- گلین میکسویل نے بھی حیدرآباد کنگز مین کے اسکواڈ کو جوائن کرلیا
- نامور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں
- بنگلا دیش کا نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز کیلیے اسکواڈ کا اعلان
- پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگز مین کا اسلام آباد کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- جاپان کے حالیہ بیانات اور اقدامات چین-جاپان تعلقات اور علاقائی صورتحال میں تناؤ کی بنیادی وجہ ہیں ، چینی میڈیا