بیجنگ(نیوزڈیسک) قومی ادارہ شماریات نے “2023 میں عوامی جمہوریہ چین کی قومی اقتصادی اور سماجی ترقی کا شماریاتی بلیٹن” 29 فروری کوجاری کیا۔
ابتدائی اعدادو شمار کے مطابق، سالانہ جی ڈی پی 126,058.2 بلین یوآن تھا ، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہے۔ حتمی کھپت کے اخراجات نے جی ڈی پی کی نمو کو 4.3 فیصد پوائنٹس تک اور مجموعی سرمائے کی تشکیل نے جی ڈی پی کی نمو کو 1.5 فیصد پوائنٹس تک پہنچایا۔سالانہ فی کس جی ڈی پی 89,358 یوآن تھا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 5.4 فیصد زیادہ ہے۔ مجموعی قومی آمدنی 125,129.7 بلین یوآن تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.6 فیصد زیادہ ہے۔
Trending
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- وفاقی وزیر داخلہ نے تربت میں ایف سی کے جدید ترین اسپتال کا افتتاح کردیا
- دشمن کے مذموم عزائم ناکام، پاکستان کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعظم
- ویسٹ انڈیز، انگلینڈ ٹیسٹ سیریز؛ پاکستانی اسکواڈ میں 2 تبدیلیوں کا اعلان
- مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ نے ایران کے خلاف حملے روک دیے، ایران نے امریکی صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا
- کم جونگ اُن کی چینی عوامی رضاکار فوج کے شہداء کے مزار پر حاضری
- چین کے صنعتی اداروں کے منافع میں 18.7 فیصد نمایاں اضافہ
- فلموں کے ذریعے چین کی سیر: متنوع سیاحتی وسائل اور نئے سفری رجحانات نے غیر ملکی سیاحوں کی آمد بڑھا دی
- مٹی سے تہذیب تک، جِنگ دہ زن کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمولیت، باہمی ثقافتی سیکھ کی طاقت کی عکاس
- چائنا کوسٹ گارڈ کے جہازوں نے مزید 2 ویتنامی شہریوں کو کامیابی سے بچا لیا