اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ و انسانی امور اور ڈبلیو ایچ او نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں غزہ کی پٹی کے لیے زمینی بندرگاہیں کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ انسانی امداد آسانی سے غزہ کی پٹی میں داخل ہو سکے اورعلاقے میں انسانی صورتحال کی سنگینی کو کم کیا جا سکے ۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ و انسانی امور کے ترجمان جینز لیک نے کہا کہ ہم غزہ میں داخل ہونے والی کسی بھی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تاہم، غزہ کے باشندوں کو اشد ضرورت کے سامان کی فراہمی کے لئے کسی عارضیبندر گاہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایسا ہو ناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ بندر گاہ اس جگہ سے بہت دور ہے جہاں امداد کی فوری ضرورت ہے۔زمینی نقل و حمل امدادی سامان فراہم کرنے کا سب سے زیادہ قابل عمل اور موثر طریقہ ہے،اس لیے ہمیں تمام زمینی سرحدیں کھولنی چاہئیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے 17 مئی کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 6 مئی سے جب اسرائیلی فوج نے رفح کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا، رفح بندرگاہ کی بندش کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں انجام دینے والےکارکنوں کو "مشکل صورتحال” کا سامنا کرنا پڑا ہے اور طبی سامان اور ایندھن کی کمی نے غزہ کے پہلے سے ہی غیر مستحکم طبی نظام اور غزہ کے لوگوں کو زیادہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔
Trending
- بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
- عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار ہے، چینی میڈیا
- جاپان نے نام نہاد "امن پسند ملک”کا نقاب خود ہی اتار لیا ہے،چینی وزارت خارجہ
- چین، 2026 عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے اعلی سطحی فورم کا انعقاد
- چین میں غربت کے خاتمے کے ثمرات کو مسلسل مستحکم کیا گیا ہے، رپورٹ
- چین۔شمالی کوریا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چینی صدر کی چار نکاتی تجویز
- اہلِ پنجاب کے لیے کئی دن بعد اچھی خبر آ گئی، شہری خوش
- امریکی وومنز فٹبال ٹیم نے برازیلین ٹیم کو 0-1 گول سے شکست دے دی
- بھارت کے سینئر فلم ساز انتقال کرگئے، فلمی دنیا سوگوار
- حکومت کا ’میرین بنکرنگ‘ کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ