نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں چینی درآمدات پر اعلیٰ محصولات کی ایک سیریز کا اعلان کیا ہے، جس میں بعض سٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف، سیمی کنڈکٹرز اور سولر پینلز پر 50 فیصد ٹیرف اور الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف شامل ہیں۔
چینی درآمد ی مصنوعات امریکی مینوفیکچررز کے مقابلے میں کم قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ صدر بائیڈن امریکی مینوفیکچررز کو مسابقت سے بچانا چاہتے ہیں اور انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینلز کی تیاری کو بہتر کرنے کے لیے اہم حکومتی فنڈنگ کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ سستی چینی مصنوعات کا مقابلہ کر سکیں۔
امریکی کمپنیوں کو مسابقت سے بچانے کے لیے محصولات کے استعمال میں مسئلہ یہ ہے کہ امریکی کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ترغیب کم ملے گی ۔ چینی کمپنیاں بیرون ملک گاڑیوں کی فروخت میں پیشرفت جاری رکھیں گی جس سے امریکی کمپنیوں کو مصنوعات کو غیر ملکی منڈیوں میں برآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ