نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو چینی الیکٹرک گاڑیوں کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں چینی درآمدات پر اعلیٰ محصولات کی ایک سیریز کا اعلان کیا ہے، جس میں بعض سٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف، سیمی کنڈکٹرز اور سولر پینلز پر 50 فیصد ٹیرف اور الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف شامل ہیں۔
چینی درآمد ی مصنوعات امریکی مینوفیکچررز کے مقابلے میں کم قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ صدر بائیڈن امریکی مینوفیکچررز کو مسابقت سے بچانا چاہتے ہیں اور انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینلز کی تیاری کو بہتر کرنے کے لیے اہم حکومتی فنڈنگ کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ سستی چینی مصنوعات کا مقابلہ کر سکیں۔
امریکی کمپنیوں کو مسابقت سے بچانے کے لیے محصولات کے استعمال میں مسئلہ یہ ہے کہ امریکی کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ترغیب کم ملے گی ۔ چینی کمپنیاں بیرون ملک گاڑیوں کی فروخت میں پیشرفت جاری رکھیں گی جس سے امریکی کمپنیوں کو مصنوعات کو غیر ملکی منڈیوں میں برآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
Trending
- سعودی ماہرین نے 1300 سال سے زائد قدیم مسجد دریافت کر لی، دیوار پر تحریر بھی ملی ، کیا لکھا ہے ؟
- فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز کا اظہارِ تشویش
- اہم شخصیت کو لے جانیوالا طیارہ لیبیا کے ایئرپورٹ پر گر کر تباہ
- امریکا میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
- ملک میں سونے کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ
- اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی حوصلہ افزائی خطے کو خطرناک بھنور میں دھکیل دے گی، چینی وزارت دفاع
- تائیوان کے معاملے پر حد پار کرنے والوں کو لامحالہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، چینی وزارت خارجہ
- چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم ترین اتفاق رائے چین اور بھارت کا شراکت دار بننا ہی ہے، چینی وزارت خارجہ