ایران کی جانب سے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کے بعد منتبہ کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے دیگر اتحادیوں نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کی مدد کی تو مشرق وسطیٰ میں اُن کے فوجیوں اور مفادات کو ایران کی جانب سے “شدید حملوں” کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے دیگر ممالک نے ایران کے خلاف براہ راست مداخلت اور جارحیت کی تو مشرق وسطیٰ میں ان کے فوجی اڈوں اور مفادات کو ایران کی مسلح افواج کی جانب سے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کے جواب میں اسرائیل پر بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ ایران کا اسرائیل کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس ارقچی نے 2 تاریخ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کا فوجی آپریشن ختم ہو گیا ہے اور اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو ایران کا جواب زیادہ “شدید اور طاقتور” ہوگا۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کی یکم تاریخ کی اطلاع کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل مار گرائےاور ایران کے حملوں کے خلاف دفاع میں اسرائیل کی مدد کرے۔
Trending
- آپریشن العزم؛ بلوچستان میں فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہوگئی
- ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کیلیے ٹیم مکمل طور پر تیار ہے، بابر اعظم
- بھارت میں طلبہ کو کسی نے کال نہیں دی، ایک کروڑ عوام نکلیں تو نظام ختم ہو جائیگا، سلمان اکرم راجا
- پاکستان کیخلاف سیریز، جو روٹ انگلینڈ کے عبوری کپتان بننے کے مضبوط امیدوار
- دریاؤں میں سیلابی صورتحال، آئندہ 24 گھنٹے اہم، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
- نسیم شاہ ایک بار پھر سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کا حصہ بن گئے
- جناح اسپتال میں ہڈیوں کے کینسر سے متعلق آگاہی واک کا انعقاد
- انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا انفانٹینو کیخلاف شکایت پر تحقیقات سے انکار
- وکرانت میسی آخر دیپیکا پاڈوکون کے ساتھ کام کیوں نہیں کرنا چاہتے تھے؟ اداکار کا بڑا انکشاف
- عمران خان کی رہائی کیلیے مزید انتظار نہیں، ہماری اگلی منزل اڈیالہ جیل ہے، علیمہ خان