خزاں کی آمد کے ساتھ ہی درختوں کے پتوں کی رنگت سبز نہیں رہتی بلکہ وہ شوخ زرد یا سرخ رنگ کے ہو جاتے ہیں، مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کا جواب کافی دلچسپ ہے۔
سال کے بیشتر مہینوں میں کلوروفل نامی کیمائی مرکب پتوں کو سورج کی روشنی توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مگر موسم خزاں میں درجہ حرارت گھٹ جاتا ہے جبکہ دن کا دورانیہ بھی کم ہو جاتا ہے جس کے باعث درختوں کو سورج کی کم روشنی ملتی ہے اور پتوں میں موجود کلوروفل مقدار گھٹ جاتی ہے۔
جب پتوں میں کلوروفل کی سطح گھٹ جاتی ہے تو ان کی رنگت زرد، سرخ یا نارنجی ہو جاتی ہے۔
عام طور پر خزاں میں پتوں کے ایسے خوبصورت رنگ اس وقت دیکھنے میں آتے ہیں جب دن روشن ہوتا ہے مگر موسم خشک اور ٹھنڈا ہو تا ہے۔
جن مقامات میں موسم ابر آلود رہتا ہے یا گرم ہوتا ہے وہاں اس طرح پتوں کی رنگت تبدیل نہیں ہوتی۔
آسان الفاظ میں خزاں کے موسم میں سورج کی کم روشنی پتوں کی سبز رنگت کو بدلنے کا باعث بنتی ہے۔
موسم بدلنے پر درخت پتوں اور شاخوں کے درمیان ایک حفاظتی رکاوٹ بھی بناتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ غذائی اجزا اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر موسم سرما میں پتوں کے لیے اپنا تحفظ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ شاخ سے الگ ہو کر زمین پر گر جاتے ہیں۔
Trending
- پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین پرویز بٹ انتقال کر گئے
- پاکستانی بولرز کی شاندار واپسی، ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 311 رنز پر آل آؤٹ کر دیا
- کام سے گھر آکر روتا تھا، عامر خان نے کیریئر کی ابتدائی مشکلات سے پردہ اٹھادیا
- ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کیلیے جدید سیکیورٹی نظام ناگزیر
- آزاد کشمیر کے عوام حق ملکیت اور حق حکمرانی مانگ رہے ہیں، شازیہ مری
- ہارس بیک آرچری چیمپئن شپ میں پاکستانی باپ بیٹی نے تاریخ رقم کر دی
- رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
- ایئر انڈس نے اپنا فضائی آپریشن بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا
- بھارتی وزیر دفاع کے بیان سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی، خواجہ آصف
- عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز