بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایرانی جوہری مسئلے کا جائزہ لیا، اور جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک نئی قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔ کونسل کے 35 رکن ممالک میں سے چین، روس اور برکینا فاسو نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ جنوبی افریقہ، بھارت اور مصر سمیت 12 ترقی پذیر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے اپنی تقریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ چین گزشتہ ہفتے ڈائریکٹر جنرل گروسی کے دورہ ایران، ایران کے ساتھ مثبت بات چیت اور حاصل شدہ مثبت نتائج کو سراہتا ہے۔ حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کونسل میں مصنوعی طور پر محاذ آرائی پیدا کرنے اور تنازعات میں شدت لانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دباؤ ڈالنا سفارتکاری نہیں ہے اور محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ان وجوہات کی بناء پر جو سب جانتے ہیں، جے سی پی او اے کو سنگین طور پر کمزور کیا گیا ہے ۔ ہم متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری مسئلے پر صورتحال کو پرسکون اور ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ دیکھیں اور سیاسی تصفیہ کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کریں۔
Trending
- پہلی ششماہی میں معیشت کی ترقی رفتار 3 اعشاریہ 8 فیصد ہے، جمیل احمد
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- ’’مجھے کافر قرار دے دیا گیا!‘‘ حمزہ علی عباسی کا حیران کن انکشاف
- پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کمپنی رجسٹریشن میں اضافہ
- انگلینڈ کرکٹ کا کھلاڑیوں کی اہلیت کے قوانین میں تبدیلی پر غور
- انڈسٹری ایل این جی بحران کا شکار ہے، تاجر برادری
- سعودی عرب کا حج پرمٹ لازمی قرار، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
- ملکی تاریخ کی سب سے بڑی میراتھن اور سائیکلنگ ریس کی تیاریاں مکمل
- پاکستان نے عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں، زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر نہیں ہونے دیا
- آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران نے نئی شرائط رکھ دیں