بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایرانی جوہری مسئلے کا جائزہ لیا، اور جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک نئی قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔ کونسل کے 35 رکن ممالک میں سے چین، روس اور برکینا فاسو نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ جنوبی افریقہ، بھارت اور مصر سمیت 12 ترقی پذیر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے اپنی تقریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ چین گزشتہ ہفتے ڈائریکٹر جنرل گروسی کے دورہ ایران، ایران کے ساتھ مثبت بات چیت اور حاصل شدہ مثبت نتائج کو سراہتا ہے۔ حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کونسل میں مصنوعی طور پر محاذ آرائی پیدا کرنے اور تنازعات میں شدت لانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دباؤ ڈالنا سفارتکاری نہیں ہے اور محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ان وجوہات کی بناء پر جو سب جانتے ہیں، جے سی پی او اے کو سنگین طور پر کمزور کیا گیا ہے ۔ ہم متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری مسئلے پر صورتحال کو پرسکون اور ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ دیکھیں اور سیاسی تصفیہ کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کریں۔
Trending
- پنجاب بھر میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، دریاؤں اور ڈیموں میں نہانے پر پابندی
- ابھیشیک شرما زمبابوے کیخلاف بھی بری طرح ناکام
- جی ایس پی پلس رپورٹ ، پاکستان کیلیے پیشرفت اوردرپیش چیلنجز
- چین میں ٹیکس اور فیسوں کی مد میں مجموعی وصولیاں 167 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں
- چین اور عالمی برادری کے سامنے جاپان ذمہ دارانہ جوابدہی پیش کرے، چینی سفارت خانہ
- امریکہ کا ایران کو سخت فوجی کارروائی کا انتباہ،تہران کی جانب سے مذاکرات کی تردید
- ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر رواں سال دوسری بار فائرنگ
- یوکرین تنازع: متعلقہ فریق رابطے برقرار رکھیں اور جلد از جلد جنگ بندی کریں، چین
- پہلی ششماہی میں چین کی ماحولیاتی صورتحال مجموعی طور پر بہتر رہی، وزارتِ ماحولیات
- آزاد کشمیر: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دو پریزائیڈنگ افسران گرفتار