بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایرانی جوہری مسئلے کا جائزہ لیا، اور جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک نئی قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔ کونسل کے 35 رکن ممالک میں سے چین، روس اور برکینا فاسو نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ جنوبی افریقہ، بھارت اور مصر سمیت 12 ترقی پذیر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں چین کے مستقل نمائندے لی سونگ نے اپنی تقریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ چین گزشتہ ہفتے ڈائریکٹر جنرل گروسی کے دورہ ایران، ایران کے ساتھ مثبت بات چیت اور حاصل شدہ مثبت نتائج کو سراہتا ہے۔ حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ کونسل میں مصنوعی طور پر محاذ آرائی پیدا کرنے اور تنازعات میں شدت لانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دباؤ ڈالنا سفارتکاری نہیں ہے اور محاذ آرائی سے ایرانی جوہری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ان وجوہات کی بناء پر جو سب جانتے ہیں، جے سی پی او اے کو سنگین طور پر کمزور کیا گیا ہے ۔ ہم متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایرانی جوہری مسئلے پر صورتحال کو پرسکون اور ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ دیکھیں اور سیاسی تصفیہ کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کریں۔
Trending
- سعودی عرب نے 5سال بعد لبنانی درآمدات پر عائد پابندی ختم کردی
- اسکواش چیمپئن شپ: سندھ کے 8 کھلاڑی سیمی فائنل میں پہنچ گئے
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا
- بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا