بیجنگ:حال ہی میں چند مغربی ذرائع ابلاغ نے قیاس آرائیاں کی ہیں کہ چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی مرچ کا خام مال “جبری مزدوری” کی پیداوار کے زمرے میں ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے 20 دسمبر کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سنکیانگ کی مرچ کی کاشتکاری کے عمل کو اب مشینی کر دیا گیا ہے۔کیا نام نہاد “جبری مزدوری” کا یہ نعرہ “مشین کی جبری مزدوری ” ہے؟
لین جیئن نے کہا کہ سنکیانگ کی کپاس سے لے کر ٹماٹر اور پھر مرچ تک، مغربی میڈیا اور جعل سازی کے ماہر پیشہ ور افراد “ہاؤس آف کارڈز” میں چھپے ہوئے اپنی لاحاصل محنت سے ایک مضحکہ خیز ڈرامہ تشکیل د ے رہے ہیں ۔لین جیئن نے کہا کہ ہزار بار دہرانے سے بھی جھوٹ ، سچ نہیں بن سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ایسے پرانے اور فرسودہ ڈرامے بند کرنے کا وقت آ گیا ہے اور اب ایک بہتر سٹوری رائٹرکی ضرورت ہے۔
Trending
- ملک میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار
- نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا
- شمالی آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا انفینٹینو کی مخالفت کا اعلان
- کتاب شی جن پھنگ کی ثقافت کے بارے میں منتخب تحریریں کی جلد اول اور دوم شائع
- چینی وزیراعظم ہنگامی امدادی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے شی زانگ پہنچ گئے
- چین، 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کی میزبانی کے لیے تیار
- چین نے امریکی حکومت کی جانب سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کی مخالفت کر دی
- قومی ویمن کرکٹر ایمن انور کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
- چین نیپال کو آفت زدہ علاقوں میں بچاؤ کے لیے ہنگامی امداد فراہم کرے گا، چینی وزارت خارجہ
- چین اور امریکہ اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعلقات استوار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، چینی وزیر خارجہ