روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
روس ٹوڈے نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق لاوروف نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد یوکرین کے بحران کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا اور "علاقے” کے حقائق کو مدنظر رکھنے پر مبنی ہونا چاہئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یوکرین کو غیر وابستگی ، غیر جانبداری اور غیر جوہری حیثیت کو یقینی بنانا چاہِیئے ۔ مغرب کی طرف سے روس کی سلامتی کو درپیش طویل مدتی خطرات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، جس میں نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع بھی شامل ہے۔ یوکرین کو روسی بولنے والے شہریوں کے حقوق، آزادیوں اور مفادات کو یقینی بنانے کی مخصوص ذمہ داری اٹھانی چاہیئے ۔
لاوروف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ڈنمارک کی جانب سے یوکرین کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی دوسری کھیپ کی فراہمی نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے اور روس کو قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوجی ذرائع سمیت متعلقہ اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیا جانے والا کوئی بھی ہتھیار روسی فوج کے لیے جائز ہدف ہے۔
لاوروف نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع نے بڑی حد تک یوکرین میں بحران کو جنم دیا ہے اور روس کی سلامتی کے لئے خطرہ پیدا کیا ہے۔ امریکہ کے روس مخالف اقدامات کی وجہ سے روسی فریق ہتھیاروں پر کنٹرول کے معاملات پر امریکی فریق کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔
Trending
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت
- چین اور یورپ کے تعلقات جیت جیت کے اصول پر قائم ہیں
- چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں ، چینی وزارت دفاع
- چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین-امریکہ دوستی کی کہانیاں عوام لکھتے ہیں، چینی صدر
- چین اور سورینام کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- چین اور آسٹریا کے تعلقات نے مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے، چینی صدر
Prev Post