فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے ایک بیان جاری کیا ،جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ فلسطین برائے فروخت نہیں ہے۔ فلسطینی غزہ کی پٹی اور دریائے اُردن کے مغربی کنارے کو نہیں چھوڑیں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، مسلح تنازعات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا تا اور فلسطینی عوام کے لیے فوری طور پر ریلیف کا آغاز نہیں کیا جاتا، تب تک امن و استحکام ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اردن، مصر اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی منتقلی کی مخالفت کی۔
اسی روز اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ شاہ عبداللہ دوم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی سرزمین کو ضم کرنے، غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینی باشندوں کو بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کی اُردون بھرپور مخالفت کرے گا۔ شاہ عبداللہ دوم نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے اپنی کوششیں بڑھائیں، تاکہ 1976 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی مملکت کا قیام عمل میں آ سکے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
Trending
- پہلی ششماہی میں معیشت کی ترقی رفتار 3 اعشاریہ 8 فیصد ہے، جمیل احمد
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- ’’مجھے کافر قرار دے دیا گیا!‘‘ حمزہ علی عباسی کا حیران کن انکشاف
- پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کمپنی رجسٹریشن میں اضافہ
- انگلینڈ کرکٹ کا کھلاڑیوں کی اہلیت کے قوانین میں تبدیلی پر غور
- انڈسٹری ایل این جی بحران کا شکار ہے، تاجر برادری
- سعودی عرب کا حج پرمٹ لازمی قرار، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
- ملکی تاریخ کی سب سے بڑی میراتھن اور سائیکلنگ ریس کی تیاریاں مکمل
- پاکستان نے عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں، زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر نہیں ہونے دیا
- آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران نے نئی شرائط رکھ دیں