واشنگٹن:امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں مالی سال 2025 کے آغاز سے لے کر رواں سال فروری تک وفاقی حکومت کا بجٹ خسارہ 1.147 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ حد تک پہنچا ہے ۔
امریکی محکمہ خزانہ نے وضاحت کی کہ خسارے میں اضافے کی وجہ عوامی قرضوں کی ادائیگی، سماجی تحفظ اور صحت کی دیکھ بھال کے پروگراموں پر خرچ ،آمدنی سے بڑی حد تک زیادہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفی اور اخراجات میں کٹوتی سے فروری میں اخراجات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ۔ یو ایس ایڈ کے اخراجات، جو ٹرمپ انتظامیہ تحلیل کرنا چاہتی ہے، فروری میں سال بہ سال ساٹھ فیصد کمی آنے کے بعد بدستور 226 ملین ڈالر رہے۔
امریکہ میں ایک آزاد تحقیقی ادارے فیڈرل بجٹ اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک امریکی حکومت نے اوسطاً روزانہ تقریباً 8 ارب ڈالر قرض لیا ہے۔
Trending
- 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کا خصوصی اسٹال، تجارتی، سرمایہ کاری مواقع کی نمائش
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر