News Views Events

تنازعات کی قیمت

0

 

تحریر: عادل ریاض گوندل

adil riaz gondal

 

 

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ فوجی اور سفارتی کشیدگی اب صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہی؛ یہ تنازع اب بڑی عالمی طاقتوں کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے، دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے اور تزویراتی فائدے حاصل کرنے کا ایک نیا میدان بن چکا ہے۔ چین، جو پاکستان کا دیرینہ اتحادی ہے، خاموشی سے اسلام آباد کو اسلحہ، دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی تعاون فراہم کر کے اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ دوسری طرف، بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کسی بھی دفاعی شراکت داری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

 

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت قومی جذبے کو ہوا دے کر اس کشیدگی کو سیاسی فائدے میں بدل رہی ہے۔ قوم پرستی کا بیانیہ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ انتخابی کامیابیوں کا ہتھیار بن چکا ہے۔ پاکستان میں، عسکری قیادت اس بحران کو داخلی سیاسی حمایت اور قومی یکجہتی کے مظاہرے کے طور پر پیش کر رہی ہے، اور اپنی روایتی طاقت کو مزید وسعت دینے میں مصروف ہے۔ ایسے میں امریکہ، جو جنوبی ایشیا میں اپنے کم ہوتے اثر و رسوخ سے پریشان ہے، اس کشیدہ ماحول میں ایک بار پھر "مرکزی ثالث” کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

ان سب کے لیے یہ ایک بظاہر "جیت” کا منظرنامہ ہے — مگر درحقیقت، اس کھیل کی سب سے بڑی ہار انسانیت ہے۔
طاقت کی یہ سیاست ان لوگوں کی زندگیوں کو نگل رہی ہے جو نہ تو اس تنازع کا آغاز چاہتے تھے، نہ اس کے نتائج کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ سرحدی علاقوں کے مکین خوف، نقل مکانی اور محرومی کا شکار ہیں۔ ننھے بچے توپوں کی گڑگڑاہٹ میں آنکھیں کھولتے ہیں، اور ان کا مستقبل دھندلکے میں ڈوبا رہتا ہے۔ وہ فوجی، جو اکثر زندگی کے ابتدائی برسوں میں ہوتے ہیں، ایک ایسی جنگ کا ایندھن بن جاتے ہیں جس کی بنیاد نفرت، انا اور طاقت کی ہوس پر ہے — نہ کہ انصاف، امن یا انسانی بھلائی پر۔

 

افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی منظرنامہ صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ کس نے زیادہ اثر بڑھایا، کس نے سفارتی میدان مارا، اور کون اس جھڑپ میں "جیتا”۔ بہت کم لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ امن کیسے ممکن ہوگا، یا اس کی راہ میں اصل رکاوٹیں کیا ہیں۔ اور شاید ہی کوئی سوچتا ہو کہ اس چکر کو توڑنے سے پہلے اور کتنی جانیں ضائع ہوں گی۔

جنوبی ایشیا میں تنازع اب ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔ ہر نیا واقعہ مسئلے کے حل کے بجائے صرف طاقت کے مظاہرے کا بہانہ بنتا ہے۔ مکالمے کی جگہ اب مقابلے نے لے لی ہے، اور مصالحت کی جگہ انتقام نے۔ یہ صورتِ حال صرف چند طاقتور طبقات کے لیے مفید ہے، جبکہ کروڑوں عام انسان خوف، غربت اور غیر یقینی میں جیتے ہیں۔

 

اگر واقعی کوئی فتح درکار ہے، تو وہ صرف ہمدردی، تدبر اور انسان دوستی کی فتح ہو سکتی ہے۔
امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ انصاف، باہمی احترام اور انسانی وقار کی موجودگی کا نام ہے۔ جب تک فیصلوں کی بنیاد ان اصولوں پر نہیں رکھی جائے گی، یہ خطہ تنازعات، قربانیوں اور بربادی کے دائروں میں گھومتا رہے گا۔

دنیا کو چاہیے کہ وہ سرخیوں، بیانات اور سفارتی چالوں سے آگے دیکھے۔ ہر "تزویراتی فائدے” کے پیچھے ایک انسانی داستان ہے — جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، لیکن وہ کبھی غیر اہم نہیں ہوتی۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم انسانیت کو سیاست کا ایندھن بننے دیں گے، یا اسے عالمی ترجیح بنائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.