بیجنگ:2024 ء میں چین میں سائنسی تعلیم کے حامل افراد کا تناسب بڑھ کر 15.37 فیصد ہو گیا اور بنیادی سائنسی تعلیم رکھنے والے شہریوں کا تناسب 44.07 فیصد تک پہنچ گیا اور ان افراد کی تعداد 440 ملین بنتی ہے۔
1992 سے چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چینی شہریوں کی سائنسی خواندگی پر سروے کا اہتمام کرتی آرہی اور اب تک 14 سروے مکمل کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر ، بنیادی سائنسی خواندگی رکھنے والے افراد وقت کی ترقی اور سائنسی پیداوار اور زندگی کی ضروریات کے مطابق ڈھل سکتے ہیں ،جو معاشی و سماجی ترقی اور سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے لئے بڑے پیمانے پر انسانی وسائل کی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں ، اور شہریوں کی سائنسی خواندگی کی مسلسل بہتری کے لئے ٹھوس بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
Trending
- پمز واقعے میں زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ کے ہوشربا انکشافات، انتظامیہ کا پول کھول دیا
- ویمنز ایشیا کپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم دبئی پہنچ گئی
- گووندا اور سنیتا آہوجا نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا، علیحدگی کی افواہیں پھر تیز
- باجوڑ؛ شرپسند عناصر کی جانب سے چھپائے گئے 14 عدد موٹر گولے برآمد
- پاکستان ہاکی کیلیے بڑی خبر؛ یورپ کی ٹاپ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی
- نعمان اعجاز کے بیٹے زاویار نعمان بچپن میں کس سنگین بیماری کا شکار ہوئے؟ حیران کن انکشاف
- اپیک 2026: چین کی میزبانی میں عالمی تعاون کا دائرہ وسیع
- کینیڈا کا 700 سے زائد امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات کا اعلان
- چین کی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق کا مضبوطی سے دفاع کیا جائےگا، سدرن تھیٹر کمانڈ
- اسرائیل کا اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی میں زبردستی داخلہ، یو این کے سیکرٹری جنرل کی شدید مذمت