بیجنگ : ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہونے والے پہلے آسیان چین جی سی سی سربراہ اجلاس نے بین الاقوامی رائے عامہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا ہے کہ سربراہ اجلاس کا آغاز ملائیشیا نے کیا تھا، جو اس سال آسیان کی صدارت سنبھال رہا ہے اور چین نے اس میں فعال طور پر حصہ لیتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ اجلاس میں چین نے تین فریقی تعاون کے مواد کو مسلسل فروغ دینے اور موجودہ دور میں عالمی تعاون اور ترقی کا ماڈل بنانے کی کوششوں کے بارے میں تجاویز پیش کیں اور کلیدی شعبوں میں تعاون کا فارمولہ پیش کیا ۔ اجلاس میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں متعلقہ تجاویز شامل کی گئیں اور اقتصادی انضمام، رابطے، توانائی کے تحفظ اور پائیداری، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت طرازی، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے متعدد اقدامات کیے گئے۔ جیسا کہ چینی فریق نے کہا کہ تین فریقی سربراہی اجلاس تعاون کے میکانزم کو “علاقائی اقتصادی تعاون میں ایک بڑی جدت کہا جا سکتا ہے”۔سب سے پہلے، اس تعاون کا یہ نیا ماڈل تین فریقی معیشت کی مکمل صلاحیت کو ظاہر کرے گا. چین کے پاس مضبوط صنعتی مینوفیکچرنگ، سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کی صلاحیتیں اور بڑی مارکیٹیں ہیں، 10 آسیان ممالک کے پاس وافر قدرتی وسائل اور نوجوان آبادی ہے، چھ جی سی سی ممالک کے پاس توانائی کے وافر وسائل اور غیر معمولی مالی طاقت ہے، اور تین فریقی معیشتیں انتہائی تکمیلی ہیں اور تعاون کے لئے وسیع گنجائش موجود ہے. چین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ جی سی سی ممالک کے لئے مکمل ویزا فری کوریج حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت چار ممالک کے لئے ویزا فری پالیسی آزمائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تینوں فریق وسائل، ٹیکنالوجی، اور ہنرمند افراد وغیرہ کی زیادہ موثر گردش اور تجارت اور سرمایہ کاری کے لئے زیادہ آزاد اور آسان شیئرنگ مارکیٹ بنانے کی کوشش کریں گے، تاکہ مشترکہ ترقی حاصل کی جا سکے.چین، آسیان اور جی سی سی ممالک گلوبل ساؤتھ کے اہم رکن ہیں اور تین فریقی سربراہ اجلاس نے گلوبل ساؤتھ میں بین العلاقائی تعاون کا ایک نیا ماڈل تلاش کیا ہے جو مثالی اہمیت کا حامل ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم سے لے کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو تک چین، آسیان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تبادلے اور تعاون ہزاروں سال پر محیط ہے۔ آج تین فریقی تعاون کے نظام کے قیام نے مشترکہ ترقی میں نئی قوت محرکہ ڈالی ہے۔ جیسا کہ ایک قطری اسکالر نے تبصرہ کیا کہ اس تاریخی سربراہی اجلاس سے ہر کوئی فائدہ اٹھائے گا۔
Trending
- گیرونگ بندرگاہ میں تباہی، نیپال سے آنے والا سیلاب چند منٹ میں چین پہنچ گیا
- آئی ایم ایف نے گیس کی قیمتوں میں کمی کی مخالفت کردی
- اقوام متحدہ کے کنونشن برائے صحرا زدگی کی روک تھام کے COP17 کا اختتام
- چین،لاؤس،میانمار اورتھائی لینڈ کا دریائے میکانگ میں قانون کے نفاذ کے لیے مشترکہ گشت اور کارروائیاں مکمل
- مصر میں چائنا میڈیا گروپ کی منتخب فلموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں کی نمائش کا آغاز
- شنگھائی تعاون تنظیم نے کامیابی سے باہمی اعتماد کا ایک ماحول تشکیل دیا ہے، سیکرٹری جنرل ایس سی او
- نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے سے نیپال میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 626 تک پہنچ گئی
- ڈاکیومینٹری سیریز “شی جن پھنگ کے پسندیدہ اقوال “شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مرکزی ذرائع ابلاغ پر نشر ہوگی
- ماں بننے کے بعد جسمانی صحت کیسے بحال کریں؟ بھارتی اداکارہ نے اپنا معمول بتا دیا
- پاکستان ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے: بلال بن ثاقب