سنگاپور: سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ میں شرکت کرنے والے چینی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر منگ زیانگ چنگ نے سی ایم جی کے نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے کانفرنس میں علاقائی تقسیم پیدا کی، لیکن آسیان ممالک تعاون اور ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ خطے کے ممالک کی مشترکہ خواہش ہے۔
پروفیسر منگ نے کہا کہ امریکہ نے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک بار پھر نام نہاد “انڈو پیسفک اسٹریٹجی” پیش کی جو کئی سالوں سے موجود ہے، لیکن تنازعات بھڑکانے، بحران پیدا کرنے اور ایشیا پیسیفک کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا پیسیفک عالمی ترقی کا اہم مرکز ہے جہاں امن اور استحکام کا حصول آسان نہیں تھا، اور صرف چین کا پیش کردہ ماڈل ہی خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جو کہ ایشیائی ہمسایہ ممالک کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔چین نے اپنے 17 ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے، جبکہ 25 ممالک کے ساتھ “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین نے ایشیا پیسیفک خطے میں پرامن ترقی کے لیے دانشمندانہ حل پیش کیا ہے اور چینی ماڈل کو سامنے لایا ہے۔ امن، ترقی اور تعاون تاریخ کا ناگزیر رجحان ہے۔
Trending
- کاروبار کا ملا جلا دن، 100 انڈیکس میں 47 پوائنٹس کی کمی
- جہاز کے ذریعے مچھر جرمنی پہنچ گیا، کاٹنے سے ایک ایئرپورٹ ملازم ہلاک
- نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
- جیسوال اور ویبھاؤ کو معمولی سزا دیے جانے پر سنجے منجریکر برہم
- ملک میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار
- نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا
- شمالی آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا انفینٹینو کی مخالفت کا اعلان
- کتاب شی جن پھنگ کی ثقافت کے بارے میں منتخب تحریریں کی جلد اول اور دوم شائع
- چینی وزیراعظم ہنگامی امدادی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے شی زانگ پہنچ گئے
- چین، 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کی میزبانی کے لیے تیار