سنگاپور: سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ میں شرکت کرنے والے چینی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر منگ زیانگ چنگ نے سی ایم جی کے نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے کانفرنس میں علاقائی تقسیم پیدا کی، لیکن آسیان ممالک تعاون اور ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ خطے کے ممالک کی مشترکہ خواہش ہے۔
پروفیسر منگ نے کہا کہ امریکہ نے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک بار پھر نام نہاد "انڈو پیسفک اسٹریٹجی” پیش کی جو کئی سالوں سے موجود ہے، لیکن تنازعات بھڑکانے، بحران پیدا کرنے اور ایشیا پیسیفک کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا پیسیفک عالمی ترقی کا اہم مرکز ہے جہاں امن اور استحکام کا حصول آسان نہیں تھا، اور صرف چین کا پیش کردہ ماڈل ہی خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جو کہ ایشیائی ہمسایہ ممالک کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔چین نے اپنے 17 ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے، جبکہ 25 ممالک کے ساتھ "بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین نے ایشیا پیسیفک خطے میں پرامن ترقی کے لیے دانشمندانہ حل پیش کیا ہے اور چینی ماڈل کو سامنے لایا ہے۔ امن، ترقی اور تعاون تاریخ کا ناگزیر رجحان ہے۔
Trending
- عمران خان نے عید الفطر کی طرح آج عید الاضحیٰ کی نماز بھی کیوں نہیں پڑھی؟
- عید الاضحیٰ پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام کالعدم تنظیم کا دہشت گرد گرفتار،بارودی مواد برآمد
- عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت کی جانب سے قوم اور امتِ مسلمہ کو مبارکباد
- کراچی میں عید کے روز نوجوان مرد اور خاتون کی لاشیں برآمد
- حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر عوامی ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، وزیراعظم
- چین اور سربیا کے تعلقات نئی بلندیوں پر
- چینی پارلیمانی وفد کا قازقستان کا دوستانہ دورہ
- ڈچ جنگی جہاز شی شا جزائر کے قریب داخل، چین کا سخت ردعمل
- امن معاہدہ ایرانی قوم کے وقار اور عزتِ نفس کے مطابق جلد طے ہوگا، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
- پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، یوم تکبیر پر وزیر اعطم کا دوٹوک پیغام