چلی کے صدر گیبریل بوریک نے اپنے قومی خطاب کے دوران اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی عوام پر کیے جانے والے “نسل کشی اور ایتھنک کلنزنگ کے مظالم” کی سخت مذمت کی۔
بوریک نے کہا کہ چلی کی حکومت اسرائیلی غیرقانونی قبضے والے علاقوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے چلی کے وزیر دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی صنعت پر انحصار ختم کرنے کے لیے دفاعی شعبے میں درآمد کا نیا منصوبہ تیار کریں۔
اکتوبر 2023 میں چلی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے “بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور ناقابل قبول رویے” کی وجہ سے انھوں نے اپنے سفیر کو اسرائیل سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سال 28 مئی کو، چلی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے “انسانی بحران انتہائی سنگین ہونے” کے باعث چلی نے اسرائیل سے اپنے ڈیفنس اتاشی کو واپس بلا لیا ہے۔
Trending
- لیاؤچھینگ سے گوادر تک: گدھوں کی صنعت چین -پاکستان زرعی تعاون کو فروغ دے رہی ہے
- پمز ہسپتال کے افسوسناک سانحے پر ڈاکٹر شوکت علی شیخ کا اظہار افسوس
- پمز اسپتال میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا ہے، حافظ نعیم الرحمان
- جوکووچ اور سبالینکا یو ایس اوپن مکسڈ ڈبلز سے باہر
- فلم کی شوٹنگ جاری، رجب بٹ امر خان کے ساتھ فلم کے سیٹ پر نظر آگئے
- پمز واقعے میں زندہ بچنے والی واحد نومولود کی خالہ کے ہوشربا انکشافات، انتظامیہ کا پول کھول دیا
- ویمنز ایشیا کپ میں شرکت کیلیے قومی ٹیم دبئی پہنچ گئی
- گووندا اور سنیتا آہوجا نے انسٹاگرام پر ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا، علیحدگی کی افواہیں پھر تیز
- باجوڑ؛ شرپسند عناصر کی جانب سے چھپائے گئے 14 عدد موٹر گولے برآمد
- پاکستان ہاکی کیلیے بڑی خبر؛ یورپ کی ٹاپ ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی