بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں تجارتی پابندیوں کو بائی پاس کر نے کے لئے روس کی مدد کرنے کے بہانے چین کے چھوٹے بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کی یورپی یونین کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کی بنیاد اور اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر یکطرفہ پابندیوں اور لانگ آرم اختیار کرنے کی مخالفت کی ہے۔جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ اس وقت یورپ اور امریکہ سمیت زیادہ تر ممالک روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور چینی اور روسی کاروباری اداروں کے درمیان معمول کے تبادلے اور تعاون ڈبلیو ٹی او کے قواعد اور مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ہیں جس کا مقصد کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانا نہیں لہذا اس میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ