امریکی صدرڈونلد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ یکم اگست سے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ یورپی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سے خود امریکہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے۔
جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے کمرشل بینک کے چیف اکانومسٹ سائرس ڈی لا روبیا نے 13 تاریخ کو کہا کہ یورپی یونین کو مذاکرات میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ معاشی ماڈلز ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی یونین پر ٹیرف عائد کرنے سے امریکہ کو یورو زون کے مقابلے میں زیادہ منفی اثرات کا سامنا ہوگا۔
آئی این جی کے میکرو ریسرچ کے سربراہ کارسٹن بریزسکی نے کہا کہ یورپی یونین پر امریکہ کے 30 فیصد ٹیرف کا مطلب ہے یورپ کو دوبارہ کساد کے دہانے پر دھکیلنا ہے اور یورپ کو ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہئے۔
Trending
- ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف
- گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ
- کینیا کے ایتھلیٹ ایمانوئل وانیونی نے 26 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
- نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش
- پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ مستعفی
- گلگت بلتستان میں توانائی کا مسئلہ بڑا المیہ ہے، نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین
- شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹانے پر رمیز راجہ کا بڑا بیان سامنے آ گیا
- بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم
- کرسٹیانو رونالڈو کے مستقبل سے متعلق پرتگال کے نئے کوچ کا اہم بیان