امریکی صدرڈونلد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ یکم اگست سے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ یورپی ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات سے خود امریکہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے۔
جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے کمرشل بینک کے چیف اکانومسٹ سائرس ڈی لا روبیا نے 13 تاریخ کو کہا کہ یورپی یونین کو مذاکرات میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ معاشی ماڈلز ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی یونین پر ٹیرف عائد کرنے سے امریکہ کو یورو زون کے مقابلے میں زیادہ منفی اثرات کا سامنا ہوگا۔
آئی این جی کے میکرو ریسرچ کے سربراہ کارسٹن بریزسکی نے کہا کہ یورپی یونین پر امریکہ کے 30 فیصد ٹیرف کا مطلب ہے یورپ کو دوبارہ کساد کے دہانے پر دھکیلنا ہے اور یورپ کو ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہئے۔
Trending
- ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں امتحانی مراکز کی تبدیلی اور بدعنوانی پر نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم
- کراچی؛ باڑے میں آتشزدگی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی 8 بھینسیں جھلس کر ہلاک
- اسحاق ڈار کے سعودی اور مصری ہم منصب سے رابطے ، اسلام آباد مذاکرات پر گفتگو
- ٹرمپ اور ایران کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی
- پی ایس ایل 11: کراچی کنگز کو شکست، حیدرآباد کنگز مین کی ایونٹ میں پہلی فتح
- ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیرملکی پلیئرز کی انجوائےمنٹ، پیڈل اور گالف سرگرمیوں میں شرکت
- پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
- کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر فٹنس کے مسائل سے دو چار
- روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں