News Views Events

ڈاکٹر شگفتہ کا مقبوضہ کشمیر میں جنسی تشدد کے خلاف بین الاقوامی اقدام پر زور

کشمیری خواتین صرف جنگ کی شکار نہیں بلکہ امن کی معمار ہیں

0

جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 60ویں اجلاس کے موقع پر ایک ضمنی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شگفتہ اشرف نے بھارتی قبضے میں کشمیری خواتین کی حالتِ زار پر زور دار خطاب کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑے اور فوری اقدام کرے۔

موضوع”عورتیں برائے فروغ و تحفظ ثقافتی ورثہ اور پائیدار امن کی تعمیر برائے
2030″ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر شگفتہ نے کہا:

"میں آج آپ کے سامنے ان بے شمار خاموش کر دی گئی خواتین کی آواز بن کر کھڑی ہوں، جو بھارتی غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر کی وادی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی چیخیں گولیوں کی گھن گرج میں دب جاتی ہیں، ان کی عزت و وقار ایک ایسے قبضے نے پامال کر دی ہے جو صرف گولیوں سے نہیں بلکہ عورتوں کے جسم کو بھی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔”

ڈاکٹر شگفتہ نے کشمیری خواتین کے خلاف قابض افواج کی جانب سے منظم اور منہدم کرنے والے ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کے حوصلے اور پوری قوم کی روح کو توڑنے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔

کشمیری خواتین کی مزاحمتی قوت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرفیو، جبر اور تشدد کے باوجود یہ خواتین اپنے لوریاں، کڑھائی، زبانی روایات اور اپنی شناخت کو مٹنے نہ دینے کے عزم کے ذریعے اپنے ورثے کی حفاظت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی سطح پر "پائیداری” اور "امن” کے بیانیوں کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان اصطلاحات کا کیا مطلب ہے اُن ماؤں کے لیے جو اپنے نوجوان بیٹوں کو دفنا دیتی ہیں، اور ان لڑکیوں کے لیے جو اپنی عزت کو ہر وقت خطرے میں جان کر پروان چڑھتی ہیں؟

عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری نبھانے پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر شگفتہ نے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا، جن میں شامل ہیں: کشمیری عوام کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خاتمہ، مجرموں کو بین الاقوامی قانون کے تحت کٹہرے میں لانا، اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بحالی جس کا وعدہ خود اقوام متحدہ نے کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری خواتین صرف جنگ کی شکار نہیں بلکہ امن کی معمار ہیں:

"کشمیری خواتین کا احترام کریں تو آپ اس ثقافت کی دھڑکن کا احترام کرتے ہیں جو مرنے سے انکار کرتی ہے۔”

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر شگفتہ نے کہا:
"تاریخ خاموشی کو معاف نہیں کرے گی۔ کشمیر کی مٹی اپنی خواتین کے آنسوؤں سے تر ہے، لیکن اس میں ان کا ناقابلِ شکست حوصلہ بھی بسا ہوا ہے۔ جب تک کشمیری خواتین آزاد نہیں ہوتیں، امن ایک جھوٹ ہے۔ جب تک ان کی عزت بحال نہیں ہوتی، ورثہ نامکمل ہے۔ اور جب تک انصاف فراہم نہیں ہوتا، انسانیت خود زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے۔”

Leave A Reply

Your email address will not be published.