ایسل الہام
موسمیاتی گورننس تجزیہ کار
impactchroniclesmedia@outlook.com
اس ہفتے عالمی میڈیا کے بیانیے نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا کس قدر تیزی سے تغیر پذیر ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، موسمیاتی بحران پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی سوچ اور منصوبہ بندی کو پیچھے چھوڑ رہی ہے
افریقہ کے مغربی اور وسطی خطے میں فوجی حکومتیں آئین میں ترامیم کر کے اپنی حکمرانی کو طول دے رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کی خاموشی خصوصاً فرانس اور امریکہ یہ سوال اٹھاتی ہے: کیا دنیا نے آمریت کو استحکام کے بدلے قبول کر لیا ہے؟
چین کی خاموش سفارت کاری بھی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ صدر شی جن پنگ کی حالیہ تقاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غلبے نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی راہ پر گامزن ہیں۔
معاشی میدان میں CNBC نے اسپین کی حیران کن ترقی کو اجاگر کیا، جو سیاحت، امیگریشن اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ دوسری طرف، امریکہ میں شرح سود میں کمی کی امید پر مارکیٹ میں تیزی آئی، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ معیشت اور مارکیٹ کے اشارے ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔
پاکستانی ویب سائٹس جیسے ڈان، دی نیشن اور ایکسپریس ٹریبیون نے اندرونی چیلنجز اور سفارتی سرگرمیوں کو اجاگر کیا۔ پنجاب اور سندھ میں حالیہ سیلاب سے 43 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے موسمیاتی موافقت کی فوری ضرورت سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم کا سعودی عرب کا دورہ اور ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت ایک نئی سفارتی جہت کی نشاندہی کرتے ہیں، مگر اندرونی مسائل پاسپورٹ بلاک ہونا، پولیو کے بڑھتے کیسز، اور اصلاحات کی سست رفتاری اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔
ڈیجیٹل شعبے میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا آغاز ایک سنگِ میل ہے، مگر سوال یہ ہے: کیا یہ ترقی بیوروکریسی کی سستی کو شکست دے سکے گی؟
میری نظر میں، پاکستان کو اب ردِ عمل کی پالیسی سے آگے بڑھ کر ایک جامع، مربوط اور عوامی شمولیت پر مبنی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ:
قومی موسمیاتی مالیاتی حکمتِ عملی کو صوبائی منصوبوں سے ہم آہنگ کر کے مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے
مقامی حکومتوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ ہیٹ ویو الرٹس، فلڈ زوننگ، اور سبز انفراسٹرکچر جیسے اقدامات کریں
ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت ڈیجیٹل شناخت، محفوظ ڈیٹا شیئرنگ، اور شہری خدمات کو فروغ دیا جائے
نوجوانوں کے لیے ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جیسے گرین اسٹارٹ اپس، قابلِ تجدید توانائی، اور ایکو ٹورزم
خواتین، دیہی کمیونٹیز، اور اقلیتوں کو موسمیاتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں میں مرکزی حیثیت دی جائے
عالمی موسمیاتی فورمز میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی ہو، صرف امداد کے لیے نہیں بلکہ بیانیہ تشکیل دینے کے لیے
میڈیا کو تربیت دی جائے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل حکمرانی پر گہرائی، سنجیدگی اور عوامی شمولیت کے ساتھ رپورٹنگ کرے
پاکستان کا مستقبل صرف پالیسی دستاویزات پر نہیں، بلکہ سیاسی عزم، عوامی شعور، اور ادارہ جاتی احتساب پر منحصر ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم قیادت کے لیے تیار ہیں، یا صرف پیچھے رہنے پر قناعت کریں گے؟