ما سکو :روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حل تلاش کریں جس سے ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو آگے بڑھا سکے۔ اسی دن وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری لیویٹ نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں “کچھ پیش رفت ہوئی ہے” لیکن “کچھ کلیدی معاملات پربڑے اختلافات بدستور موجود ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ایران آنے والے ہفتوں میں امریکہ کو مزید تفصیلات فراہم کرے گا۔ اس سوال پر کہ آیا ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے کوئی آخری مہلت مقرر کی ہے، لیویٹ نے کہا کہ وہ اس نوعیت کے سوال کا جواب دینے کی مجاز نہیں ہیں۔ ادھر ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے 18 تاریخ کو کہا کہ مذاکرات اور فوجی تیاری ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے دو باہم تکمیلی حکمت عملیاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی دفاعی افواج مکمل جنگی تیاریوں کی حالت میں ہیں اور دیگر ضروری انتظامات پہلے سے کر لیے گئے ہیں۔
Trending
- اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت گرانے کیلئے اتحاد کر لیا
- 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی
- نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
- چین، یوم شہداء پر عوامی ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادر پیش کرنے کی تقریب 30 ستمبر کو ہوگی
- چینی صدر کا پرامن چین انیشی ایٹو کو مزید بلند سطح تک آگے بڑھانے پر زور
- چین۔امریکہ تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے ، یو ایس۔چائنا بزنس کونسل کے صدر
- مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت
- چین کے سات محکموں کی جانب سے نئی بیٹری صنعت کی ترقی کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جاری
- چین دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کو تیار ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین مصنوعی ذہانت سے متعلق امریکہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا خواہاں