بیجنگ :چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے چینی حکومت کی دعوت پر چین کا سرکاری دورہ کیا۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران یہ ان کا چین کا چوتھا دورہ ہے۔ یہ تسلسل بڑے یورپی ممالک کے رہنماؤں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اعلیٰ سطح پر اس تسلسل اور بھرپور نتائج کا حامل یہ تعلق نہ صرف چین اور اسپین کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی مسلسل گہرائی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے بلکہ ہنگامہ خیز بین الاقوامی صورتحال میں اسپین کے اسٹریٹجک خود مختاری پر قائم رہنے اور چین کے حوالے سے عقلی اور عملی رویے کو بھی نمایاں کرتا ہے۔یہ چین-یورپ تعلقات میں مداخلت کے رجحانات کے خاتمے اور باہمی ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے ایک مثال قائم کرتا ہے اور یورپی یونین کے مختلف ممالک کے لئے درست طریقے سے چین کو دیکھنے اور چین کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے کے لیے اہم رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔چار سالوں کے دوران وزیر اعظم سانچیز کے ان چار دوروں نے ، قدم بہ قدم ترقی کرتے ہوئے اور عملی طور پر آگے بڑھتے ہوئے، چین-اسپین تعلقات کے تزویراتی عزم اور بھرپور قوت حیات کو نمایاں کیا ہے: 2023 میں، سفارتی تعلقات کے قیام کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر تعاون کی بنیاد رکھی گئی؛ 2024 میں تعاون کے شعبوں کو بڑھانے اورسبز ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ 2025 میں، جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے جبکہ 2026 میں، سفارتی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میکانزم کا آغاز کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں، چین اور اسپین کے درمیان دو طرفہ تجارت 55 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو کہ سال بہ سال 9.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ چین یورپی یونین سے باہر اسپین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا۔ سی اے ٹی ایل اور چیری جیسی چینی کمپنیوں نے اسپین میں بڑے منصوبے شروع کیے ہیں، جو اسپین کی سبز تبدیلی اور صنعتی اپ گریڈنگ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ زرعی مصنوعات کی باہمی فروخت سے لے کر نئی توانائی کے تعاون تک، سائنسی اور تکنیکی تبادلوں سے لے کرافرادی و ثقافتی تبادلوں تک، چین اسپین تعاون میں تمام پہلوؤں، متعدد سطحوں اور وسیع میدانوں میں جیت کا نمونہ تشکیل دیا گیا ہے۔ ان ٹھوس ثمرات نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔اس وقت بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے، یکطرفہ اقدامات اور تحفظ پسندی عروج پر ہے، جبکہ بلاک تصادم اور "ڈی کپلنگ” کی بازگشت مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ بعض یورپی ممالک کو چین کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں بیرونی دباؤ اور اندرونی ہچکچاہٹ کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں، اسپین کا تزویراتی خودمختاری اور چین کے ساتھ کھلے تعاون، بات چیت اور مشاورت کا پختہ انتخاب خاص طور پر قابل ستائش ہے۔ چھینگ ہوا یونیورسٹی میں اپنی تقریر کے دوران سانچیز نے واضح طور پر زیرو سم گیمز کی سوچ اور چین کو فرسودہ تعصبات کے ساتھ دیکھنے کی مخالفت کی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کثیرالجہتی پرانی نہیں ہوئی بلکہ اور بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ اسپین نے بار ہا یورپی یونین کے اندر تجارتی جنگ کی مخالفت کی،اور چین کے ساتھ عقلی اور عملی تعاون کا ایک نمونہ بن کر اپنے ٹھوس اقدامات کے ذریعے دور اندیشی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ عقلی انتخاب فرانس، برطانیہ، پرتگال، اور جرمنی جیسے یورپی ممالک اور چین کے درمیان متواتر اعلیٰ سطحی تبادلوں کا باعث بنا ہے، جس سے چین-یورپ تعلقات میں ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے کو تقویت ملی ہے۔چین اسپین دوستی کی گہرائی نے دو طرفہ دائرہ کار سے بالاتر ہو کر چین یورپ تعاون کے لیے ‘باہمی فائدے اور جیت جیت ‘ کا معیار قائم کیا ہے۔ چین ہمیشہ یورپی یونین کو کثیر قطبی دنیا کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے، یورپی یونین کی اسٹریٹجک خودمختاری اور متحد ترقی کی پختہ حمایت کرتا ہے، اور ہمیشہ کھلے رویے سے یورپ کے ساتھ چینی طرز کی جدیدیت کے مواقع کا اشتراک کرتا ہے۔ چین اور اسپین نے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ مختلف تاریخی و ثقافتی پس منظر اور مختلف معاشرتی نظام رکھنے والے ممالک دوستانہ تعلقات اور گہرا تعاون قائم کر سکتے ہیں؛ چین اور یورپ کے درمیان بنیادی مفاد کا تصادم نہیں ہے، اور تعاون اور اتفاق رائے اختلافی آوازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ چین کو ‘خطرہ’ سمجھنے اور چین کے خلاف’ڈی ریسکنگ’ کا جو بھی بیانیہ ہے، وہ نہ تو حقیقی حالات کے مطابق ہے اور نہ ہی یورپ کے اپنے مفاد میں۔اسپین کا معقول انتخاب، یورپی یونین کے اندر مثبت رہنما اثر پیدا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، زیادہ سے زیادہ یورپی ممالک اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات کو سیاسی یا نظریاتی رنگ دینا یورپی عوام کی فلاح و بہبود کو ہی نقصان پہنچائے گا؛ اور صرف اسٹریٹجک خودمختاری پر قائم رہتے ہوئے پالیسی کے استحکام کو برقرار رکھنے سے ہی وہ چین کی ترقی سے پیدا ہونے والے زبردست مواقع اور عالمی منظرنامے میں مزید اختیار حاصل کر سکیں گے ۔ گزشتہ چار سالوں میں سانچیز کی جانب سے چین کے چار دورے، ایک واضح پیغام کے مترادف ہیں: چین کے ساتھ تعاون انتخاب نہیں بلکہ لازم ہے؛ یہ انحصار کے بجائے اسٹریٹجک خودمختاری کا مظہر ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین اور اسپین دونوں اصول پسند اور اخلاقی اقدار کے پابند ممالک ہیں، اور فریقین کو حقیقی کثیرالجہتی اصولوں کے دفاع اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل میں مل کر کام کرنا چاہیے۔ آج کی غیر یقینی دنیا میں چین اور یورپ کو پہلے سے کہیں زیادہ استحکام، تعاون اور دانشمندی کی ضرورت ہے ۔ چار سال میں چار دورے دوستی کی گواہی ہیں اور تعاون کے نئے آغاز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ چین اسپین تعلقات مزید ترقی کریں گے، اور اسپین کی اسٹریٹجک خودمختاری اور عملی عقلمندی زیادہ تر یورپی ممالک کو اپنے بلاک کے تعصبات ترک کرنے اور چین کے ساتھ ہم قدم چلنے کی ترغیب دے گی، تاکہ چین-یورپی یونین تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور کثیر قطبی دنیا اور جامع اقتصادی عالمگیریت میں دیرپا قوت محرکہ فراہم کی جا سکے۔
Trending
- اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹرز نیویارک میں چینی زبان کے دن کی مناسبت سے ثقافتی تقریب کا انعقاد
- چین ، پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا معترف
- اسپین کے وزیر اعظم کا دورہ چین
- عوام کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے پر چینی صدر کے مضمون کی اشاعت
- چین-روس تعلقات کا استحکام خاص طور پر قیمتی ہے، چینی صدر
- چینی صدر کی تولام کو ویتنام کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد
- پاکستان میں سونے کی اونچی اڑان جاری، آج مزید مہنگا
- بشیراللہ خان انقلابی کی حریت رہنما الطاف بٹ کی رہائش گاہ آمد، والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی
- سابق صدر و اہلخانہ کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا کیس: عدالت کا انکوائری مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی
- نوجوان صحافی سید حسن ہمدانی یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کشمیر کیبنٹ کے وائس پریذیڈینٹ مقرر