گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے اعلیٰ سطحی رابطے، مشترکہ حکمتِ عملی پر مشاورت
اسلام آباد/ گلگت:(نمائندہ اپنا وطن ) گلگت بلتستان انتخابات کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان گلگت میں اہم مشاورتی ملاقاتیں منعقد ہوئیں جن میں انتخابی صورتحال، حکومت سازی اور ممکنہ سیاسی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا
۔پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنماء سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے پارٹی کے سنیر نائب صدر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور سیکرٹری جنرل محمد طارق حسن سے رابطہ کیا اور ان سے انتخابی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا،جبکہ گلگت میں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور مرکزی رہنما چوہدری منظور احمد، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان غلام مصطفیٰ، نائب صدر انیلہ ایاز، صدر فیڈرل کیپٙٹل رضوان صادق خان، صوبائی صدر گلگت بلتستان دلفراز خان کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوئے،
ان ملاقاتوں کے دوران دونوں جماعتوں نے انتخابی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے بہتر انتخابی نتائج حاصل کرنے کے امکانات پر غور کیا۔ اس موقع پر حکومت سازی اور عوامی مفاد میں سیاسی تعاون کے مختلف آپشنز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان موجود باہمی احترام اور سیاسی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاسی تعاون کے امکانات روشن ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں سے عوامی مفاد اور سیاسی استحکام کو تقویت ملے گی، مسلم لیگ ق کے مرکزی ترجمان غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ یہ ملاقات پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت پر منعقد ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی وفد نے ملاقات کے حوالے سے سینئر رہنما چوہدری شافع حسین،سکردو میں موجود پارٹی کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد اور صدر پنجاب ملک محمد ثمین کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام فیصلے پارٹی قیادت کی مشاورت اور منظوری سے کیے جائیں گے، دونوں جماعتوں نے رابطوں اور مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے اب تک ہونے والی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔