News Views Events
Apna Watan

پی اے وی ای اسکیم میں فاسٹ ٹریک میکانزم متعارف، الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی جلد اور آسان فراہمی کا اعلان

0

اسلام آباد(نعیم اختر ) پاکستان الیکٹرک ٹو اینڈ تھری وہیلرز مینوفیکچررز اینڈ اسمبلرز ایسوسی ایشن( PETMAA) کے چئیرمین ڈاکٹر محمد امجد کی قیادت میں ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ اور ملک کی معروف الیکٹرک وہیکل کمپنیوں کے نمائندوں نے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار  ہارون اختر خان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلرز انڈسٹری کو درپیش چیلنجز، حکومتی پالیسیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کا بنیادی ایجنڈا ففتھ شیڈول کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا، جس کے تحت اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز کو ایک فیصد ٹیکس کی رعایت حاصل ہے۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ ففتھ شیڈول کے خاتمے کے خدشات کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران صنعت غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہی، جس سے سرمایہ کاری، مقامی مینوفیکچرنگ اور الیکٹرک وہیکل سیکٹر کی ترقی متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔اس موقع پر پیٹما کے چئرمین ڈاکٹر محمد امجد اور دیگراوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز نمائندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ففتھ شیڈول کو آئندہ وفاقی بجٹ اور ایف بی آر کے فریم ورک کا حصہ بنایا جائے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت موجودہ مالی سال میں بھی ایک فیصد ٹیکس رعایت سے مستفید ہو سکے اور پاکستان میں الیکٹرک موبیلیٹی کے فروغ کا سفر بلا تعطل جاری رہے۔

وفاقی وزیر ہارون اختر خان نے وفد کو یقین دلایا کہ الیکٹرک ٹو اور تھری وہیلرز انڈسٹری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور یہ شعبہ غیر معمولی ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز کمیونٹی کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم صنعت کو درپیش مسائل کے حل اور پالیسی معاملات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے شرکاء کو PAVE اسکیم کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے ابتدائی مرحلے میں عملدرآمد کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں رہی، تاہم حکومت نے اب ایک فاسٹ ٹریک میکانزم متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے پاکستانی شہری زیادہ آسانی اور تیزی کے ساتھ الیکٹرک موٹر سائیکلیں حاصل کر سکیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ نئے نظام کے تحت صارفین کو سبسڈی کے حصول کے لیے طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ حکومت پاکستان سبسڈی کی رقم براہ راست اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز کو ادا کرے گی۔

ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف صارفین کے لیے انتہائی پرکشش ہے بلکہ ملک میں الیکٹرک موبیلیٹی کے فروغ اور عام شہریوں کی جدید، ماحول دوست اور کم خرچ سفری سہولیات تک رسائی کو بھی یقینی بنائے گا۔ہارون اختر خان نے مزیدبتایا کہ انہوں نے وزارت خزانہ اور وزیراعظم آفس کے ساتھ متعدد سطحوں پر رابطے کر کے الیکٹرک وہیکل انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی مجوزہ تجویز کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں حکومت نے جولائی 2026 سے جون 2027 تک الیکٹرک وہیکلز کے لیے 1 فیصد ٹیکس رجیم برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صنعتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی ای وی انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے جو صارفین، مینوفیکچررز، اسمبلرز، سرمایہ کاروں اور قومی معیشت سب کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔ اس اقدام سے مقامی صنعت کو استحکام ملے گا، نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔وفد کے دیگر اراکین میں حسن اسد، محمد سعید اختر، شاہ رخ نسیم اور حمزہ اسد شامل تھے، جنہوں نے اپنی اپنی کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے صنعت سے متعلق اہم تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔پیٹمااوراوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز کمیونٹی نے وفاقی وزیر ہارون اختر خان کی مثبت سوچ، عملی اقدامات، تعاون اور ای وی انڈسٹری کے لیے بھرپور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.