News Views Events
Apna Watan

فیفا ورلڈ کپ 2026؛ میسی کا نیا ریکارڈ، ایمباپے کو پیچھے چھوڑ دیا

0

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنلز کے اختتام پر لیونل میسی، جولین الواریز اور جوڈ بیلنگھم نے شاندار کارکردگی سے کئی نئے ریکارڈ اپنے نام کر لیے، جبکہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں بھی متعدد منفرد اعزازات قائم ہوئے۔

ارجنٹینا نے سوئٹزرلینڈ کو اضافی وقت میں 1-3 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے ناروے کو 1-2 سے ہرا کر آخری چار ٹیموں میں رسائی حاصل کی۔

سن 1992 میں فیفا رینکنگ کے اجراء کے بعد یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں ٹاپ چار سیڈڈ ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے علاوہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں صرف تیسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ چاروں سیمی فائنلسٹ سابق عالمی چیمپیئن ہیں، اس سے قبل یہ اعزاز 1970 اور 1990 کے ورلڈ کپ میں دیکھا گیا تھا۔

لیونل میسی نے 2026 ورلڈ کپ میں اب تک 20 ایسے پاسز دیے جن سے شاٹ لیا گیا، اور وہ 1966 کے بعد پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے تین مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

میسی نے الیکسس میک الیسٹر کو کارنر سے گول کروا کر ورلڈ کپ میں اپنی مجموعی اسسٹس کی تعداد 10 تک پہنچا دی، جو 1966 کے بعد کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ اسسٹس ہیں۔ اس طرح انہوں نے ڈیاگو میراڈونا (8 اسسٹس) کو پیچھے چھوڑ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ورلڈ کپ میں میسی کی پہلی کارنر اسسٹ بھی تھی۔

اس کے ساتھ ہی میسی 2022 اور 2026 کے ورلڈ کپ میں 10 یا اس سے زیادہ گول کنٹریبیوشنز کرنے والے واحد دو کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے، جبکہ اس فہرست میں ان کے ساتھ صرف فرانس کے کیلیان ایمباپے موجود ہیں۔

دوسری جانب جولین الواریز نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر کے پانچ میں سے چار گول ناک آؤٹ مرحلے میں کیے، جس کے بعد انہوں نے ڈیاگو میراڈونا کے ریکارڈ کی برابری کرلی۔ اس فہرست میں ان سے آگے صرف لیونل میسی ہیں، جنہوں نے ناک آؤٹ مرحلے میں سات گول اسکور کیے ہیں۔

ارجنٹینا مسلسل چار میچز میں تین یا اس سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کے طویل ترین سلسلے کی برابری ہے۔ ٹیم نے اس ورلڈ کپ میں تین گول کارنرز سے بھی اسکور کیے، جو کسی بھی ٹیم کی مشترکہ طور پر سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ادھر انگلینڈ کے نوجوان مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم بھی اپنی شاندار کارکردگی سے ایک منفرد اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے اور ورلڈ کپ کی تاریخ میں پیلے کے بعد اس عمر میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں شامل ہوگئے۔

اس ورلڈ کپ میں اب تک ناک آؤٹ مرحلے کے آٹھ میچ اضافی وقت تک جا چکے ہیں، جو کسی ایک ورلڈ کپ ایڈیشن میں سب سے زیادہ کی برابری ہے۔ 1990 اور 2014 میں بھی آٹھ میچ اضافی وقت میں گئے تھے، تاہم ان دونوں ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے کے میچز کی تعداد موجودہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔

پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.