News Views Events
Apna Watan

اے آئی کے چیلنجز تکنیکی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں، چینی میڈیا

0

بیجنگ: 2026 کی عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین نےاے آئی گورننس کے لیے اپنا موقف پیش کیا: انسانوں کی مرکزیت اور بھلائی کے اصولوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے،اے آئی کو مشترکہ خوشحالی اور اجتماعی تحفظ کے فروغ کے لیے ایک اہم محرک بنانا، اور منصفانہ و معقول عالمی اے آئی گورننس نظام کی تعمیر کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ضروری ہے۔
سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لئے کئے گئے ایک سروے سے پتا چلتا ہے کہ 85.4 فیصد شرکاءکا خیال ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی عالمی سلامتی اور گورننس کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے؛ 92.6 فیصد افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیپ فیک اور جھوٹی معلومات تخلیق کرنے والی ٹیکنالوجیز معاشرتی اعتماد کی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہیں؛ جبکہ 87.8 فیصد لوگ اس امر سے پریشان ہیں کہ ٹیکنالوجی کی رکاوٹیں اور “ڈیجیٹل دیواریں” عالمی سائنسی و تکنیکی تعاون کو تقسیم کریں گی۔ یہ تینوں اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی کے چیلنجز تکنیکی حدود سے کہیں آگے نکل چکے ہیں، اور عالمی گورننس کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے پیدا کرنا، اب ذہین دور کا مشترکہ تقاضا بن چکا ہے۔
سروے میں شامل 82.6 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ اے آئی گورننس میں ترقی پذیر ممالک اور “گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کو قواعد و ضوابط کی تشکیل میں زیادہ مؤثر طریقے سے شامل کیے بغیر اس نظام کی منصفانہ اور جامع نوعیت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح 87.5 فیصد جواب دہندگان نے توقع ظاہر کی کہ عالمی برادری مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت کو سب کے لیے قابلِ رسائی اور جامع بنانے کی کوشش کرے، تاکہ یہ ٹیکنالوجی معاشروں میں نئی تقسیم کا سبب نہ بنے۔ یہ نتائج نہ صرف عالمی عوام کی اے آئی گورننس سے متعلق مشترکہ امیدوں کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی اجارہ داری کے بجائے کھلی شراکت داری، اور قواعد کی رکاوٹوں کے مقابلے میں جامع اشتراک، اب ایک وسیع تر بین الاقوامی اتفاقِ رائے بنتا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.