بیجنگ : جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کے 48ویں عالمی ثقافتی ورثہ اجلاس میں چین کی جانب سے پیش کیے گئے “جنگ دہ زن کے روایتی چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت کے آثار” کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی “ہزار سالہ چینی مٹی کا شہر” کے نام سے معروف یہ تاریخی و ثقافتی شہر چین کا 61واں عالمی ثقافتی ورثہ بن گیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے “صنعتی ورثے” کے زمرے میں کسی منصوبے کو عالمی ثقافتی ورثے کے لیے کامیابی سے رجسٹر کرایا ہے۔ اس اندراج نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں چینی مٹی (پورسلین) سے متعلق ورثے کی موجودگی کا خلا بھی پُر کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ریشم، چائے اور چینی مٹی کے برتن، جو قدیم چین کے بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی روابط کے تین اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں، اب عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مکمل طور پر نمائندگی حاصل کر چکے ہیں۔
Trending
- پاکستان میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہو گیا
- ٹیلی ویژن دستاویزی فلم” ورلڈ ای وو ،شی جن پھنگ کی رہنمائی میں ای وو کی ترقی” نشر ہو رہی ہے
- چین کی سائنسی صلاحیت اور جدیدیت دنیا میں نمایاں مقام رکھتی ہے ،معروف جرمن سائنس دان
- یورپی سیاح چین کی مزید کشش سے متاثر ہو رہے ہیں ، چینی میڈیا
- چین کے عالمی ثقافتی ورثے کی تعداد 61 ہو گئی
- چین کی ڈیجیٹل صنعت کی آمدنی 39.6 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی
- شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک مزید قریبی تعاون کو فروغ دیں گے ، چینی وزیر خارجہ
- بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، وزیر تعلیم دھرمیندر پرادھان مستعفی
- سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
- قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج سپریم کورٹ