بیجنگ : جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ یونیسکو کے 48ویں عالمی ثقافتی ورثہ اجلاس میں چین کی جانب سے پیش کیے گئے “جنگ دہ زن کے روایتی چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت کے آثار” کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی “ہزار سالہ چینی مٹی کا شہر” کے نام سے معروف یہ تاریخی و ثقافتی شہر چین کا 61واں عالمی ثقافتی ورثہ بن گیا۔یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے “صنعتی ورثے” کے زمرے میں کسی منصوبے کو عالمی ثقافتی ورثے کے لیے کامیابی سے رجسٹر کرایا ہے۔ اس اندراج نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں چینی مٹی (پورسلین) سے متعلق ورثے کی موجودگی کا خلا بھی پُر کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ریشم، چائے اور چینی مٹی کے برتن، جو قدیم چین کے بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی روابط کے تین اہم ذرائع سمجھے جاتے ہیں، اب عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مکمل طور پر نمائندگی حاصل کر چکے ہیں۔
Trending
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر
- چینی خلا بازوں کی جانب سے پانچویں اسپیس لیکچر کا انعقاد