
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے درمیان 10 واں جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس وزیرِ تجارت جام کمال اور ایرانی وزیرِ صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں پاکستان اور ایران نے تجارت، سرمایہ کاری، نجی شعبے کے تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
جام کمال نے کہا کہ اجلاس قابلِ عمل روڈ میپ مرتب کر کے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، تاریخی تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستانی وزیرِ تجارت نے پاک ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیا اور کہا کہ سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز اور کارگو نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹر چینج سے دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو گا، دونوں ممالک کے نجی شعبے تجارت کے لیے تیار ہیں، حکومتوں کی ذمے داری سازگار اور قابلِ اعتماد کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیر ڈاکٹر محمد اتابک نے پاکستان کو طویل المدتی اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 10 ارب ڈالرز تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایرانی وزیر نے کراچی، گوادر بندر گاہوں کے ذریعے تجارت، لاجسٹک تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیر نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد مکمل ہوجائے گا، بجلی کی تجارت اور علاقائی رابطے دونوں ممالک کے لیے نیا معاشی مواقع ہیں۔
پی این پی