عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کی وبا اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا سے بھی زیادہ وسیع ہو سکتی ہے اور اب تک کی سب سے مہلک ایبولا وبا بننے کا خطرہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات، مسلح جھڑپیں، طبی وسائل کی کمی اور غلط اطلاعات سمیت متعدد عوامل وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو مشکل بنا رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت میں ہنگامی صحت کی صورتحال سے متعلق وارننگ اور ردعمل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمن محمود نے کہا کہ معتدل صورتحال میں وبا کے آئندہ چھ ماہ کے دوران عروج پر پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ زیادہ سنگین صورتحال میں یہ وبا 9 سے 12 ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس وقت ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کے 4,400 سے زائد تصدیق شدہ کیسز اور 2,000 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
Trending
- جاپانی فوج نے زہریلی گیس کے بم چینی زمین میں چھپائے ،یونٹ 731 کے سابق ارکان کی تصدیق
- چین کا بھارت سے درآمد کردہ سنگل موڈ آپٹیکل فائبر پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی برقرار رکھنے کا فیصلہ
- چینی فلموں کی بیرون ملک نمائش اور پروموشن کی سرگرمی “سلک روڈ لائٹ اینڈ شیڈو ” کا کرغزستان کے شہر بشکیک میں آغاز
- مال روڈ واقعہ اشارہ ہے 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری
- ٹیسٹ رینکنگ: بابر اعظم کو ویسٹ انڈیز کیخلاف شاندار کارکردگی کا صلہ مل گیا
- چین کی قیادت میں اسمارٹ شہروں کے ڈیٹا کے استعمال کے لیے بین الاقوامی معیار کا عالمی فریم ورک جاری
- چین کے میزائل تجربے پر تنقید سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، چینی وزارت خارجہ
- کنگنا رناوت کا نصیرالدین شاہ پر طنزیہ وار، اداکار کو ’لومڑی‘ کہہ ڈالا
- چین ، دوسرے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں سولہ ممالک کی ٹیمیں شریک ہوں گی
- عراق میں غیر ملکی افواج کی موجودگی 30 ستمبر کو ختم، یکم اکتوبر سے نئے دور کا آغاز ہوگا: عراقی وزیراعظم
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔