عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریئسس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کی وبا اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا سے بھی زیادہ وسیع ہو سکتی ہے اور اب تک کی سب سے مہلک ایبولا وبا بننے کا خطرہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات، مسلح جھڑپیں، طبی وسائل کی کمی اور غلط اطلاعات سمیت متعدد عوامل وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو مشکل بنا رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت میں ہنگامی صحت کی صورتحال سے متعلق وارننگ اور ردعمل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمن محمود نے کہا کہ معتدل صورتحال میں وبا کے آئندہ چھ ماہ کے دوران عروج پر پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ زیادہ سنگین صورتحال میں یہ وبا 9 سے 12 ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس وقت ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کے 4,400 سے زائد تصدیق شدہ کیسز اور 2,000 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
Trending
- آؤٹ یا ناٹ آؤٹ، انگلینڈ بمقابلہ سری لنکا میچ میں انوکھا رن آؤٹ زیر بحث
- سشانت سنگھ کے پوسٹ مارٹم سے متعلق بہن کا نیا دعویٰ سامنے آگیا
- ایس آئی ایف سی کی بروقت مداخلت، چینی کمپنی کی دھابیجی فیکٹری 7 ماہ بعد فعال
- کے پی میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہیں، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، امیر مقام
- ایشین گیمز: مریم کریم نے متحدہ عرب امارات کو پہلا گولڈ میڈل دِلا دیا
- آغا مصطفیٰ ڈراموں میں معاوضے کی عدم ادائیگی پر برہم، اہم انکشافات کردیئے
- تیل کی قیمت 106 ڈالرز فی بیرل کے قریب پہنچ گئی
- لاہور: 27 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری، متاثرہ شخص کا بھانجا گرفتار
- ارشد ندیم ایشین گیمز میں میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے
- ’اسپٹنگ امیج‘ سے شہرت پانے والے مشہور کامیڈین چل بسے
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔