بیجنگ :15 اگست کو عوامی جمہوریہ چین کا ماحولیاتی ضابطہ قانون باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا، جس سے چین میں ماحولیاتی نظام سے متعلق قانونی حکمرانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی پر مبنی جدیدیت کے لیے قانونی بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔یہ عوامی جمہوریہ چین کے سول کوڈ کے بعد چین کا دوسرا قانون ہے جس کے نام میں “ضابطہ قانون” شامل ہے، جبکہ دنیا میں یہ پہلا قانون ہے جسے ماحولیاتی ضابطہ قانون کا نام دیا گیا ہے۔یہ ضابطہ صرف ماحولیات کا تحفظ نہیں کرتا بلکہ ہر فرد کے ماحولیاتی حقوق و مفادات کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ ماضی میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق متعدد قوانین الگ الگ کام کرتے تھے، جبکہ اب ایک جامع ضابطے کے ذریعے ماحولیاتی حکمرانی کو منتشر قانون سازی اور ہنگامی بنیادوں پر قوانین میں ترامیم کے مرحلے سے نکال کر نظامی اور جدید مرحلے میں داخل کیا گیا ہے۔
Trending
- ایلون مسک اور ان کی والدہ کا سب کو چین جانے کا مشورہ
- لائف سائنسز میں چین کے سرکردہ بین الاقوامی علمی جریدے “ویٹا” کا پہلا مطبوعہ شمارہ جاری
- انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل پاکستانی بولرز کی شاندار کارکردگی
- جاپانی سیاست دانوں کا جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے دن کے موقع پر “یاسوکونی شرائن” کا دورہ، چین کا سخت احتجاج
- “دفاع” سے “حملے” تک؟ جاپان کے ڈیفنس وائٹ پیپر نے اُس کے توسیع پسند عزائم بے نقاب کر دیے
- بیوی نے شوہر کو نیند کی گولیاں کھلا کر بلّے سے پیٹا اور زندہ دفنا دیا
- انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی
- چین ، سی ایم جی فلم کلچرل کارنیول تھیان جن پہنچ گیا
- چین میں ریلوے مسافروں کی تعداد 2.8 ارب، نیا تاریخی ریکارڈ
- چین کا ماحولیاتی ضابطہ قانون 15 اگست سے باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا