اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جیل میں میرے بیرک کے ساتھ پھانسی گھاٹ ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت میں سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کر دی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سائفر کیس میں پیشی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شاہ محمود نے کہا کہ میں بے قصور اور سیاسی قیدی ہوں، ملک سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل میں میرے بیرک کے ساتھ پھانسی گھاٹ ہے، اگر میں نے غداری کی ہے تو مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جائے، اللہ مجھے صبر سے جبر برداشت کرنے کی ہمت دے، جج صاحب سے گزارش ہے انصاف میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہونی چاہیے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان تھے اور ہیں، کوئی ابہام نہیں، البتہ مجھے دعوت دی گئی، اسی لئے میں نے پاکستان کے لئے ایک نقطہ نظر پیش کیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک اس وقت معاشی، آئینی، اور سیاسی بحران سے دوچار ہے جس سے نکلنے کا واحد راستہ شفاف انتخابات ہیں، لہٰذا ہمیں اپنی ذاتی انا سے بالاتر ہو کر پاکستان کا سوچنا ہوگا اور اپنے موقف، حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
دوسری جانب سائفر گمشدگی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کا بھی مزید جوڈیشل ریمانڈ منظور کرلیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 7 ستمبر کو سفارتی سائفر گشمدگی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی رخصت پر ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی۔
Trending
- اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کی حکومت گرانے کیلئے اتحاد کر لیا
- 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی
- نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا
- چین، یوم شہداء پر عوامی ہیروز کی یادگار پر پھولوں کی چادر پیش کرنے کی تقریب 30 ستمبر کو ہوگی
- چینی صدر کا پرامن چین انیشی ایٹو کو مزید بلند سطح تک آگے بڑھانے پر زور
- چین۔امریکہ تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے ، یو ایس۔چائنا بزنس کونسل کے صدر
- مصنوعی ذہانت پر چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عملی اہمیت
- چین کے سات محکموں کی جانب سے نئی بیٹری صنعت کی ترقی کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جاری
- چین دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کو تیار ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین مصنوعی ذہانت سے متعلق امریکہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا خواہاں