اسلام آباد(نیوزڈیسک)نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق نامزد چیف جسٹس پاکستان کو قانون کے مطابق سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔16 ستمبر کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ججز کالونی میں چیف جسٹس ہاؤس خالی کردیا ہے اور چیف جسٹس ریٹائرڈ ججوں کے لیے مختص گھر میں منتقل ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میری توجہ تھی کہ زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی کی جائے لیکن میرے آتے ساتھ ہی بار بار لوگ آئینی نکات پر حقوق مانگنے آتے تھے۔
عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نے 23 ہزار کیسز نمٹائے جو کہ ایک ریکارڈ ہے جبکہ اس سے پہلے زیادہ کیسز نمٹانے کا ریکارڈ 18 ہزار تھا، گزشتہ 9 ماہ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 4 ہزار بڑھ گئی، گزشتہ سال 12 ججز کے ساتھ کام کرتے رہے اور 23 ہزار مقدمات کے فیصلے کیے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو حلف اٹھانے سے روکنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کردی گئی۔
شکایت مقامی وکیل ہاشم صابر راجہ کی جانب سے دائر کی گئی۔ شکایت میں اعلیٰ عدلیہ کے دیگر 4 ججز کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
شکایت کنندہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کی جائیدادوں کی وضاحت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ جبکہ انصاف فراہم کرنے والوں کو شفاف اور کسی بھی الزام سے پاک ہونا چاہیے۔
دائر کی گئی درخواست کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کسی بھی طرح جج اور چیف جسٹس کے معیار پر پورا نہیں اترتے، وہ اپنی رائے کے خلاف وکلاء کے دلائل بھی توجہ اور صبر سے نہیں سنتے۔
درخواست میں جن دیگر ججز کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے، ان میں جسٹس مظاہر نقوی بھی شامل ہیں، شکایت کنندہ کا موقف ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اور ڈیل کے نتیجہ میں پرویز مشرف کو سزا سنانے والی عدالت کا قیام کالعدم قرار دیا گیا۔ اور ڈیل ہی کے نتیجہ میں جسٹس مظاہر نقوی کو سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔
درخواست میں جسٹس امین الدین خان کے بارے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہوں نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل آفس میں رشتے دار بھرتی کرائے۔ جسٹس امین الدین خان اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب قرار پائے۔
درخواست کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے بھی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ دونوں ججز نے اثرو رسوخ استعمال کرکے جم خانہ کلب کی ممبرشپ خلاف ضابطہ حاصل کی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ججز کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کرے۔
Trending
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ
- امریکہ قومی سلامتی کے تصور کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، چینی وزارتِ تجارت
- فیڈرل بورڈ کے بروقت نتائج قابل تحسین، الحاقی فیسوں میں اضافہ طلبہ و والدین کیلئے باعث تشویش ہے،ڈاکٹر ابرارحسین ملک
- مسلسل پانچ میڈن اوورز میں پانچ وکٹیں، ٹیسٹ کرکٹ میں نیا ریکارڈ قائم