آسٹریا کے شہر ویانا میں جوہری تحفظ سے متعلق آئی اے ای اے کی وزارتی کانفرنس نے ایک مشترکہ بیان منظور کیا۔بیان میں کہا گیا کہ جوہری تحفظ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں جوہری مواد، تابکاری مواد یا متعلقہ تنصیبات کے خلاف بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کی روک تھام، نگرانی اور جواب دینا شامل ہے ۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ان ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والی ممکنہ کمزوریوں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے اعلی سطح کی نگرانی کی ضرورت ہے۔
چین کے نمائندے نے اپنی تقریر میں کہا کہ چینی حکومت کی جانب سے اپنی نیوکلیئر سکیورٹی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد قوانین و ضوابط نافذ کیے گئےہیں، جوہری مواد اور جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جوہری تنصیبات کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی سے جامع سکیورٹی مشقوں کا انعقاد کیا جاتاہے۔
جوہری سلامتی پر آئی اے ای اے کی وزارتی کانفرنس 20 مئی کو شروع ہوئی اور یہ 24 مئی کو اختتام پذیر ہوگی ۔ کانفرنس میں عالمی جوہری تحفظ کے مستقبل پر توجہ مرکوز کی گئی اور جوہری توانائی اور جوہری تحفظ کے شعبے میں ممالک کے تازہ ترین طریقوں کا تبادلہ کیا گیا۔
Trending
- بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے سامنے مودی کا بیانیہ زمیں بوس
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی