اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- 2 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس بھیج دیا گیا
- مشرقِ وسطیٰ تنازع عالمی معیشت کیلئے بڑا سپلائی شاک ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- جے ڈی وینس کا طیارہ تاخیر سے کیوں پہنچا، نارمل روٹ سے سفر کیوں نہیں کیا ، پاکستان سے پہلے کہاں قیام کیا ۔۔۔؟اہم تفصیلات جانیے
- امید ہے فریقین مذاکرات جاری رکھیں گے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
- سونے کی قیمتوں میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- سکیورٹی اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کیلئے جاسوسی کرنیوالے 3 افراد کو گرفتار کرلیا
- کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار
- امریکا کا ایران کی ناکہ بندی کا اعلان، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
- ڈی آئی خان؛ مضر صحت حلوہ کھانے سے 3 نوجوان جاں بحق
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی