اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- پاکستان کا سعودی عرب کیساتھ تجارتی خسارہ 18.37 فیصد کم ہوگیا
- ویمنز ایشیا کپ: بھارتی ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے کس نے منع کیا؟ کوچ کا انکشاف
- رضااللہ ہیرو، زیرو پھر ہیرو
- مسلم لیگ (ق) ہیومن رائٹس ونگ کا اہم اجلاس، تنظیم سازی اور عوامی شکایات کے حل پر غور
- ایلیگزینڈر زیوریو نے پہلی مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیت لیا
- گزشتہ سال نافذ ہونے والا نیا وائیڈ بال قانون کیا ہے؟ ثناء میر نے وضاحت کردی
- مریم نواز کا بیٹی کے نکاح پر شاہانہ لُک توجہ کا مرکز، جانیے لباس کی خاص تفصیلات
- ملک میں آج بھی سونا سستا ہو گیا
- 72 سالہ ملائیشین فٹبال لیجنڈ نے 20 سالہ لڑکی سے شادی کرلی
- چین مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے اندرونی اور ضمنی خطرات پر خاص توجہ دیتا ہے، چینی وزارت خارجہ