اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار ہے، چینی میڈیا
- جاپان نے نام نہاد "امن پسند ملک”کا نقاب خود ہی اتار لیا ہے،چینی وزارت خارجہ
- چین، 2026 عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے اعلی سطحی فورم کا انعقاد
- چین میں غربت کے خاتمے کے ثمرات کو مسلسل مستحکم کیا گیا ہے، رپورٹ
- چین۔شمالی کوریا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چینی صدر کی چار نکاتی تجویز
- اہلِ پنجاب کے لیے کئی دن بعد اچھی خبر آ گئی، شہری خوش
- امریکی وومنز فٹبال ٹیم نے برازیلین ٹیم کو 0-1 گول سے شکست دے دی
- بھارت کے سینئر فلم ساز انتقال کرگئے، فلمی دنیا سوگوار
- حکومت کا ’میرین بنکرنگ‘ کے لیے نیا ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ
- محرم الحرام سکیورٹی کے پیشِ نظر پنجاب میں دفعہ 144 نافذ