اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مبارک نظر ثانی کیس سے متعلق بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔
مبارک ثانی نظرثانی کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے وضاحتی اعلامیے میں کہا ہے کہ آئین شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، اظہار رائے کی آزادی کو اسلام کی عظمت یا ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پروپیگنڈا کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، بلکہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامی آرائی کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- Fawad Khan new photos go viral after cosmetic treatment shocking fans
- سعودی فالکن وژن گروپ کا پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی
- اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ میں رابطہ، بحیرہ احمر اور باب المندب سے متعلق گفتگو
- The ICC has announced 12 venues for the 2027 World Cup.
- محمد احمد اور فہد شیخ تنازع: فیصل قریشی کے یوٹرن پر سوشل میڈیا صارفین ناراض
- پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہوگئیں
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ، نوٹی فکیشن جاری
- شان مسعود انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
- ایک سانس میں پانی کے اندر 86 پش اپس، یوگا ٹیچر نے عالمی ریکارڈ بنا ڈالا
- ڈرائیور کے گھر سے 28 کروڑ روپے نقد اور 15 کلو سونا برآمد