ٹوکیو:جاپان کے ایک نجی تحقیقی ادارے ٹوکیو انسٹی ٹیوٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اپریل سے ستمبر کے درمیان دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 10 سال میں پہلی بار 5 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
ٹوکیو انسٹی ٹیوٹ آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ یوشی ہیرو ساکاتا نے کہا کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس سال افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے کاروبار بند ہونے کی تعداد میں 80.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افرادی قوت کی کمی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، چاپانی ین کی قدر میں کمی سے خام مال اور توانائی کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، اور بہت سی کمپنیاں لاگت کے اس دباؤ کو مکمل طور پر فروخت کی طرف منتقل کرنے سے قاصر ہیں، جس کے نتیجے میں ایک مشکل صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
Trending
- ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کیلیے جدید سیکیورٹی نظام ناگزیر
- آزاد کشمیر کے عوام حق ملکیت اور حق حکمرانی مانگ رہے ہیں، شازیہ مری
- ہارس بیک آرچری چیمپئن شپ میں پاکستانی باپ بیٹی نے تاریخ رقم کر دی
- رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
- ایئر انڈس نے اپنا فضائی آپریشن بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا
- بھارتی وزیر دفاع کے بیان سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی، خواجہ آصف
- عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کا فاتحانہ آغاز
- لاہور میں ٹک ٹاکر رجب بٹ پر ایک اور مقدمہ درج، فائرنگ اور تشدد کے الزامات
- آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی، وزیر پیٹرولیم اور مالکان کے مذاکرات کل ہوں گے
- آزاد کشمیر الیکشن، پولنگ بیگز برآمد ہونے پر رانا ثناء اللہ نے بڑا مطالبہ کر دیا