ہیفے (شِنہوا) یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنہ (یو ایس ٹی سی) کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ایک انقلابی بایو میمیٹک مصنوعی ہاتھ متعارف کرایا ہے جو انتہائی مہارت کے ساتھ بال بنانے، اسمارٹ فونز چلانے اور حتیٰ کہ پیچیدہ اشاروں کی زبان کے اشاروں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔
انسان کے ہاتھ کے افعال کی نقل کر نے والا یہ ہلکا پھلکا مصنوعی آلہ مصنوعی اور انسان نماروبوٹس بنانے میں ایک اہم پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں معذور افراد کے لیے امید کی کرن بن رہا ہے۔
یو ایس ٹی سی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر کہا ہے کہ یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی تھی۔
ایک انسانی ہاتھ 23 آزادی کے درجے (ڈی او ایف ایس) کا حامل ہے یعنی کہ وہ کتنی آزادانہ حرکتیں کر سکتا ہے، قدرتی انجینئرنگ کا ایک شاندار نمونہ ہے جو جسم کی مجموعی حرکاتی فعالیت کا 54 فیصد فراہم کرتا ہےحالانکہ اس کا وزن جسم کے وزن کے صرف ایک سو پچاسویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔
اکثر موٹرز سے چلنے والنے روایتی مصنوعی ہاتھ وزن اور افعال کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ زیادہ تر کا وزن 0.4 کلوگرام سے زیادہ ہوتا ہے جس سے آرام میں کمی آتی ہے اور وہ 10 سے کم ڈی ایف اوزپیش کرتے ہیں۔
یہ محدودیت ان کے پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً آدھے صارفین اپنے مصنوعی ہاتھوں کو ترک کر دیتے ہیں۔
Trending
- بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے سامنے مودی کا بیانیہ زمیں بوس
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی