اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے غزہ کے عوام پر تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔ فلسطینی تھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی امداد، خوراک اور طبی امداد کو غزہ کی پٹی میں داخلے سے روکنا جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں سےہے، جس کا مقصد خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران عوام کے مزید مصیبت پیدا کرنا ہے۔
ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے 4 تاریخ کی شام کو اعلان کیا کہ اسی دن منعقدہ عرب ممالک کے ہنگامی اجلاس میں مصر کی جانب سے تجویز کردہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کو منظور کرلیا گیا ہے اور غزہ کی پٹی کو عارضی طور پر چلانے کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو غیط نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں غزہ کی کم از کم چھ ماہ تک حکمرانی کے لیے ایک غیر دھڑے بندی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اس منصوبے کو تمام عرب ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہنگامی سربراہ اجلاس میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "امن عربوں کے لئے ایک تزویراتی انتخاب ہے، اور امن کا عرب تصور دو ریاستی نقطہ نظر پر مبنی ہے”۔
Trending
- ٹرین سروس معطل، جعفر ایکسپریس دوسرے روز بھی پشاور نہ پہنچ سکی
- پی ایس ایل 11 میں نئی ٹیموں کی شمولیت سے آمدنی 7.5 ارب روپے سے تجاوز کرگئی
- عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا
- پاور سیکٹر میں جدت کی جانب قدم؛ پبلک سیکٹر میں پہلی بار ڈیٹا گورننس کونسل قائم
- دہلی کے ہوٹل میں آتشزگی سے 18 غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تصدیق، حفاظتی کوتاہیوں کا پردہ فاش
- وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اور اسٹاک مارکیٹ ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ
- پاکستان فٹبال کی تاریخی فتح نئی، کامیابیوں کا آغاز ہے
- ماہرہ خان کی شاہ چارلس سے ملاقات، برطانیہ کے بادشاہ نے فلاحی کاموں کو بھی سراہا
- غیر قانونی سگریٹوں کے کاروبار پر قابو پانے کیلیے بجٹ میں اہم اقدامات کا فیصلہ
- مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا ایک بار پھر پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار