اقوام متحدہ کے دفتر رابطہ برائے انسانی امور نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے غزہ کے عوام پر تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔ فلسطینی تھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانی امداد، خوراک اور طبی امداد کو غزہ کی پٹی میں داخلے سے روکنا جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں سےہے، جس کا مقصد خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے کے دوران عوام کے مزید مصیبت پیدا کرنا ہے۔
ادھر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے 4 تاریخ کی شام کو اعلان کیا کہ اسی دن منعقدہ عرب ممالک کے ہنگامی اجلاس میں مصر کی جانب سے تجویز کردہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کو منظور کرلیا گیا ہے اور غزہ کی پٹی کو عارضی طور پر چلانے کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو غیط نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں غزہ کی کم از کم چھ ماہ تک حکمرانی کے لیے ایک غیر دھڑے بندی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اس منصوبے کو تمام عرب ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ہنگامی سربراہ اجلاس میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "امن عربوں کے لئے ایک تزویراتی انتخاب ہے، اور امن کا عرب تصور دو ریاستی نقطہ نظر پر مبنی ہے”۔
Trending
- خطے کی بہتر ہوتی صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کا بلندی پر پہنچا دیا، سونا بھی سستا
- مئی میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنر مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا، ایئر چیف مارشل
- پاکستان عالمی معاشی دباؤ کے باوجود مستحکم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- فیلڈ مارشل کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
- فتح جنگ میں رات 10 بجے کے بعد شادی ہال کی خلاف ورزی، 2 لاکھ جرمانہ، ہال سیل اور مقدمہ درج
- پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ
- خطے میں کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع
- جاپانی حکومت کے خلاف ہزاروں جاپانی شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی
- چینی صارفین کو جدید ترین اور بہترین مصنوعات کی فراہمی
- امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل