News Views Events

پاکستان سے شکست کا غصہ، بھارتی سیاحوں نے ترکی اور آزربائیجان کو نشانے پر رکھ لیا

0

بھارت میں ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے پاکستان کی حالیہ کشیدگی کے دوران حمایت پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی شہریوں نے ان دونوں ممالک کے سیاحتی دورے منسوخ کرنے شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی بکنگ کمپنی MakeMyTrip کے ترجمان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں ترکی اور آذربائیجان کے لیے بکنگ میں 60 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ منسوخیوں میں 250 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

EaseMyTrip کے سی ای او رکانت پٹّی نے بتایا کہ ان کی ویب سائٹ پر ترکی کے لیے 22 فیصد اور آذربائیجان کے لیے 30 فیصد بکنگز منسوخ ہو چکی ہیں۔

ترکیہ اور آذربائیجان کی سیاحت

انہوں نے کہا کہ بھارتی مسافر اب جورجیا، سربیا، یونان، تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید برآں، ixigo نامی ایک اور ٹریول پلیٹ فارم نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ترکی، آذربائیجان اور چین کے لیے فلائٹ اور ہوٹل بکنگز معطل کر رہا ہے۔

ترکیہ اور آذربائیجان کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرنے اور ’آپریشن سندور‘ کے بعد پاکستان کے مؤقف کی تائید کرنے پر بھارت بھر میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان ممالک کے خلاف بائیکاٹ کی ایک وسیع مہم شروع ہو چکی ہے، جس کے عملی اثرات اب سامنے آنے لگے ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی آن لائن سفری بکنگ پلیٹ فارم MakeMyTrip کے مطابق ترکی اور آذربائیجان جانے والے بھارتی سیاحوں کی جانب سے دوروں کی منسوخیاں 250 فیصد تک بڑھ گئی ہیں جبکہ ان دونوں ممالک کے لیے بکنگ میں 60 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
ترکی اور آذربائیجان کے خلاف آن لائن مہم زوروں پر
سوشل میڈیا پر لاکھوں بھارتی صارفین ترکی اور آذربائیجان کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ "BoycottTurkey” اور "BoycottAzerbaijan” جیسے ہیش ٹیگز ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ صارفین ان دونوں ممالک کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف ان ممالک کا سفر ترک کریں بلکہ ان کی مصنوعات اور ثقافتی اثرات سے بھی دور رہیں۔
دہلی، ممبئی، اور حیدرآباد کے کئی ٹریول ایجنٹس نے اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دہلی کے ایک معروف ٹور آپریٹر، راہول تیواری نے بتایا:
"ہم نے مارچ اور اپریل میں ترکی کے لیے جو گروپ ٹورز پلان کیے تھے، اُن میں سے بیشتر اب منسوخ ہو چکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ملک میں پیسہ نہیں خرچ کریں گے جو بھارت مخالف بیانیے کی حمایت کرتا ہو۔”
اسی طرح ہوٹل انڈسٹری کے ایک ماہر، وپن مہرا کا کہنا تھا کہ یہ ایک وقتی ردعمل ہے مگر اگر یہ طویل ہو گیا تو ترکی اور آذربائیجان کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ بھارت ایک بڑی سیاحتی مارکیٹ ہے۔
سیاستدانوں اور عوامی رہنماؤں کی حمایت
بھارتی سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں کی بڑی تعداد نے اس بائیکاٹ مہم کی کھل کر حمایت کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان سبرامنیم سوامی نے اپنے ایک بیان میں کہا:
"یہ وقت ہے کہ ہم قومی غیرت کو اولین ترجیح دیں۔ جو ممالک ہمارے دشمن کی حمایت کرتے ہیں، ان سے تعلقات محدود کرنے چاہئیں۔”

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.