چین اور روس کو بین الاقوامی اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہئے، چینی نائب وزیر اعظم
بیجنگ : چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔ ہفتہ کے روز ڈنگ شوئے شیانگ نے نشاندہی کی کہ چین روس کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے، تعلقات کو مضبوط بنانے، اقتصادی اور تجارتی سرمایہ کاری کو بڑھانے، توانائی کے شعبے میں عملی تعاون کو گہرا کرنے، متعلقہ منصوبوں کی تعمیر کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کی ترقی اور بحالی کی حمایت کے لئے کام کرنے کا خواہاں ہے۔ ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ چین اور روس کو مضبوط جامع تزویراتی تعاون کے ساتھ بین الاقوامی اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہئے ، ڈبلیو ٹی او کی مرکزیت پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرنی چاہئے ، صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے ، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس سمیت کثیر الجہتی تعاون کو گہرا کرنا چاہئے ، اور مساوی اور منظم عالمی کثیر پولرائزیشن اور جامع اقتصادی گلوبلائزیشن کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنا چاہئے۔پیوٹن نے کہا کہ بیرونی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے روس اور چین کے تعلقات ہمہ جہت ترقی کی راہ پر ہیں اور ایک بے مثال سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تھیان جن سمٹ اور جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی جنگ اور عالمی فاشسٹ مخالف جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کی یادگارتقریبات میں شرکت کے منتظر ہیں۔
Trending
- سعودی ماہرین نے 1300 سال سے زائد قدیم مسجد دریافت کر لی، دیوار پر تحریر بھی ملی ، کیا لکھا ہے ؟
- فیول ریلیف اسکیم پر پیٹرولیم ڈیلرز کا اظہارِ تشویش
- اہم شخصیت کو لے جانیوالا طیارہ لیبیا کے ایئرپورٹ پر گر کر تباہ
- امریکا میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- تین ہزار برس قدیم ’چیختی ممی‘ کی پراسرار موت کا معمہ
- ملک میں سونے کے بھاؤ میں کمی ریکارڈ
- اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- جاپان کی “نئی قسم کی عسکریت پسندی” کی حوصلہ افزائی خطے کو خطرناک بھنور میں دھکیل دے گی، چینی وزارت دفاع
- تائیوان کے معاملے پر حد پار کرنے والوں کو لامحالہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، چینی وزارت خارجہ
- چینی صدر اور بھارتی وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم ترین اتفاق رائے چین اور بھارت کا شراکت دار بننا ہی ہے، چینی وزارت خارجہ