News Views Events

اقلیتی خاتون ڈاکٹر سے بدسلوکی پر ڈاکٹر رشیدہ سومرو کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع

0

کراچی  : سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی ادارے میں چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رشیدہ سومرو کے خلاف اقلیتی ڈاکٹر/طبی عملہ سراپا احتجاج، سنگین نوعیت کی بدانتظامی، اقلیتوں سے بدکلامی، ہراسانی اور اختیارات سے تجاوز کی شکایات پر تین رُکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم، چیف سیکرٹری سندھ بھی حرکت میں آگئے، کمشنر کراچی کو سخت ایکشن لینے کے احکامات صادر، تین دن بعد سابق آئی جی سندھ کی ہمشیرہ ڈاکٹر رشیدہ سومرو سے تحریری وضاحت طلب کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ادارے میں سرکاری اختیارات سے تجاوز، بدانتظامی،ڈیوٹی سے غیرحاضری، اسٹاف سے ناروا سلوک اور اقلیتی مذہب کے سرکاری ملازمین کے ساتھ توہین آمیز رویہ برداشت کی حدیں کراس کرگیاہے، کمشنر ایس ای ایس ایس آئی نے سابق آئی جی سندھ کی ہمشیرہ سی ایم او ڈاکٹر رشیدہ سومرو کے خلاف عائد سنگین الزامات کی محکمانہ تحقیقات کیلئے باضابطہ طور پر تین رُکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے،چیف سیکرٹری سندھ بھی حرکت میں آگئے، چیف میڈیکل آفیسر سے کمشنر کراچی حسن نقوی کو چیف میڈیکل آفیسر کے خلاف سخت ایکشن لینے کےاحکامات ، اقلیتی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے سخت احتجاج کے باعث تین بعد ڈاکٹر رشیدہ سومرو سے آخرکار وضاحت طلب کرلی گئی ہے، تین رکنی انکوائری کمیٹی اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والی سینیئر خاتون ڈاکٹرکے ساتھ ناروا سلوک پر تحقیقات کرے گی۔

ذرائع کے مطابق صوبائی سوشل سیکیورٹی ادارے میں گریڈ بیس کے ڈاکٹروں کی موجودگی کے باوجود سیاسی اثرورسوخ کی بناء پرسابق آئی جی سندھ کی ہمشیرہ انیس گریڈ کی ڈاکٹر رشیدہ سومرو کو چیف میڈیکل آفیسر لگایا گیا جنہوں نے سربراہی سنبھالتے ہی سینئر ڈاکٹروں اور دیگر اسٹاف کے خلاف اپنے اختیارات کا غلط استعمال شروع کردیا، تاہم انیس اور بیس نومبر کوسٹی سرکل کراچی میں شدید نوعیت کا سنگین واقعہ پیش آیا جب طاقت کے نشے میں چُور ڈاکٹر رشیدہ سومرو نےغیرمسلم اقلیتی مذہب کی انیسویں گریڈ کی سینئر خاتون ڈاکٹر کے ساتھ بدکلامی شروع کردی، موقع پر موجود افراد کا کہنا ہے کہ چیف میڈیکل آفیسر نے اقلیتی مذہب کو بھی نشانہ بناتے ہوئے نازیبا کلمات ادا کیے جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی اور اقلیتی کمیونٹی سراپا احتجاج ہو گئی۔

میڈیکل ایڈوائزر نے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ملتے ہی اگلے روز موقع کا دورہ کیا اور سی ایم او ڈاکٹر رشیدہ کو ڈیوٹی سے غیرحاضر پایا،انہوں نے صورتحال کا بغور جائزہ لیکر اپنی تحریری رپورٹ میں اعلیٰ حکام کو چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رشیدہ کے خلاف ڈیوٹی سے غفلت برتنے، اسٹاف سے ناروا سلوک اور تمام غیرقانونی احکامات واپس لینے کا کہا، تاہم سیاسی دباؤ پر سی ایم او ڈاکٹر رشیدہ سومرو کے خلاف وضاحت طلبی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا جو اقلیتی کمیونٹی کے سخت احتجاج کے باعث آخرکار تین دن بعد جاری ہوگیا ہے۔

اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے چیف میڈیکل آفیسر کو انتقامی کاروائی کیلئے غیرقانونی تبادلوں سے باز رکھنے کیلئے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا، تاہم ڈاکٹر رشیدہ نے تحریری احکامات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اختیارات کا غلط استعمال جاری رکھا جس سے محکمے کے تمام غیرمسلم اقلیتی اسٹاف میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اقلیتی خاتون ڈاکٹر نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ گریڈ انیس کی ڈاکٹر رشیدہ کو فوری طور پر ہٹاکر کسی دوسرے گریڈ بیس کے سینئر ڈاکٹر کو سربراہ مقرر کرکے شفاف انکوائری کو یقینی بنایا جائے۔ ۔مزید برآں، شکایت کنندہ کے مطابق 22 نومبر کو ڈاکٹر رشیدہ سومرو نے اپنا ہی جاری کردہ ایک متنازع نوٹیفکیشن واپس لیکر ایک اور غیر قانونی قدم اُٹھایا ہے، حالانکہ اس حوالے سے انتظامی اختیارات ڈاکٹر رشیدہ سے پہلے ہی واپس لیے جا چکے تھے۔

اقلیتی کمیونٹی کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذہب کی توہین شدید قابلِ مذمت اور گھناؤنا فعل ہے، انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی دباؤ اور مفادات سے بالاتر ہوکر اقلیتی خاتون ڈاکٹر کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.