بیجنگ :چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ورچوئل ملاقات کی۔بدھ کے روزملاقات کے آغاز پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا تبادلہ کیا۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دو مرتبہ ملاقاتیں ہوئیں، جن کی رہنمائی میں چین اور روس کے تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور روس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی برادری کو انصاف اور مساوات پر قائم رہنے کی ترغیب دیں، دوسری عالمی جنگ میں حاصل ہونے والی فتح کے نتائج کا بھرپور دفاع کریں، اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کا مضبوطی سے تحفظ کریں، اور مشترکہ طور پر عالمی اسٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھیں۔ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس کو روس۔چین تعلقات کے مستقبل پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس، چین کے ساتھ اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، تاکہ بین الاقوامی امور میں مثبت توانائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ روس شین زین میں منعقد ہونے والی ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (ا پیک) کے رہنماؤں کی کانفرنس کے انعقاد میں چین کی بھرپور حمایت کرے گا۔ملاقات کے دوران دونوں سربراہانِ مملکت نے بین الاقوامی اور علاقائی اہمیت کے حامل باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
Trending
- پاکستان کی غیرملکی کرنسی ڈیفالٹ ریٹنگ بی مائنس برقرار: فچ
- اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا پھر کیا چیز رکاوٹ بنی؟ایران نے بتا دیا
- پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- مفت سولر پینل کا حصول اور آسان
- ایلون مسک کا کورونا ویکسین سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ
- بین الاقوامی برادری کو چین کو درست طور پر سمجھنا چاہیے ، ہسپانوی وزیرِاعظم
- چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے، چینی وزیر خارجہ
- ٹرمپ ایران پر محدود حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں،امریکی اخبارکادعویٰ
- فلپائن کی جانب سے نام نہادمشترکہ گشت کا انعقاد علاقائی امن و استحکام کے لئے نقصان کا باعث ہے،چینی سدرن تھیٹر کمانڈ
- آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی سامان اور توانائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، چینی وزارت خارجہ