اعتصام الحق
چین میں ہر سال 12 مارچ کو قومی یومِ شجرکاری منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری اداروں، طلبا، فوجی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت لاکھوں لوگ درخت لگانے کی مہم میں حصہ لیتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ روایت چین کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ رہی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس روایت میں ایک نئی جہت بھی شامل ہو گئی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کا کردار نمایاں ہے۔
اس پروگرام کا طریقہ کار خاصا دلچسپ ہے۔ اس میں شامل ہونے والے لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست عادتیں اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سفر کے لیے کار کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے، سائیکل چلاتا ہے، یا بجلی اور کاغذ کے استعمال میں بچت کرتا ہے تو اسے اس کی ایپ میں “گرین انرجی” پوائنٹس ملتے ہیں۔ اسی طرح آن لائن ادائیگیاں کرنا اور کم کاربن طرزِ زندگی اپنانا بھی ان پوائنٹس میں اضافہ کرتا ہے۔
یہ پوائنٹس محض ایک ڈیجیٹل کھیل کا حصہ نہیں ہوتے۔ ایپ میں یہ پوائنٹس ایک ورچوئل درخت کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب کوئی صارف ایپ کھولتا ہے تو اس کی اسکرین پر ایک ننھا سا پودا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے جیسے وہ ماحول دوست سرگرمیوں کے ذریعے پوائنٹس حاصل کرتا جاتا ہے، یہ پودا آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے اور آخرکار ایک مکمل درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
چند ہی برسوں میں اس پروگرام میں کروڑوں افراد شامل ہو چکے ہیں۔ اندرونی منگولیا اور شمالی چین کے دیگر خشک علاقوں میں بڑی تعداد میں درخت لگائے جا چکے ہیں۔ ان علاقوں میں جہاں پہلے ریت کے طوفان عام تھے اور زمین بنجر دکھائی دیتی تھی، وہاں اب آہستہ آہستہ سبز پودوں کی قطاریں نظر آنے لگی ہیں۔
اس پروگرام کی کامیابی کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ اقوام متحدہ نے اس منصوبے کو ماحولیات کے اعلیٰ اعزاز چیمپئینز آف دی ارتھ ایوارڈ سے نوازا۔ اس اعزاز کی وجہ یہی تھی کہ اس پروگرام نے لاکھوں لوگوں کے چھوٹے چھوٹے اقدامات کو حقیقی درختوں اور جنگلات میں بدل دیا۔
اگرچہ یہ موبائل پروگرام جدید دور کی ایک دلچسپ مثال ہے، لیکن چین میں ماحول کو بہتر
چین کے شمال میں واقع وسیع صحرائے تکلمکان دنیا کے بڑے صحراؤں میں شمار ہوتا ہے۔ ماضی میں اسے “زندہ نگل لینے والا صحرا” بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں کے شدید ریت کے طوفان آس پاس کے شہروں اور کھیتوں کے لیے بڑا خطرہ بن جاتے تھے۔ اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے 1978 میں چین نے ایک غیر معمولی منصوبہ شروع کیا جسے”تھری نارتھ شیلٹر فارسٹ پروگرام ” کہا جاتا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد شمالی چین کے وسیع علاقوں میں درختوں کی ایک لمبی سبز پٹی قائم کرنا تھا تاکہ صحرا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آ سکتے تھے۔ اس کے لیے مسلسل محنت اور کئی دہائیوں کی منصوبہ بندی درکار تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے نتائج سامنے آنے لگے۔ درختوں کی بڑی تعداد نے نہ صرف زمین کو سبز بنایا بلکہ ریت کے طوفانوں کو کم کرنے میں بھی مدد دی۔ حالیہ برسوں میں چین نے اعلان کیا کہ صحرائے تکلمکان کے گرد ہزاروں کلومیٹر طویل سبز پٹی قائم کی جا چکی ہے۔ اربوں درختوں پر مشتمل یہ سبز حصار صحرا کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا میں نئے سبز علاقوں میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ چین کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کو دنیا میں سب سے تیزی سے سبزہ بڑھانے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی جنگلات کے رقبے کے اعتبار سےیہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریگستانی اور ریتیلی زمینوں کے پھیلاؤ میں بھی کمی آ رہی ہے۔
ان تمام کوششوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ چین میں شجرکاری صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک طویل المدت قومی حکمت عملی بن چکی ہے۔ اس حکمت عملی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں حکومت، اداروں اور عام شہریوں سب کو شامل کیا گیا ہے۔
آج چین میں درخت لگانے کی کہانی دو مختلف مگر جڑی ہوئی صورتوں میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف دہائیوں پر محیط بڑے قومی منصوبے ہیں جو صحرا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری ہیں، اور دوسری طرف ایک موبائل ایپ ہے جس کے ذریعے عام لوگ روزمرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے فیصلوں کے ذریعے ماحول کے تحفظ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
شاید یہی وہ امتزاج ہے جس نے چین کی شجرکاری کی کہانی کو منفرد بنا دیا ہے۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے صرف بڑے منصوبوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی عادت، ایک سادہ سا فیصلہ، یا موبائل فون پر کیا گیا ایک معمولی سا ٹچ بھی ایک نئے درخت کی بنیاد بن سکتا ہے۔